سوئی ناردرن گیس کمپنی میں ارجنٹ فیس والے کنکشنز تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
شاہدسپرا:سوئی ناردرن گیس کمپنی میں ارجنٹ فیس کے ساتھ جمع کروائی گئی کنکشن درخواستیں التواء کا شکار ہو گئیں۔
ذرائع کے مطابق ایک ماہ گزر جانے کے باوجود ایل این جی کی بنیاد پر جمع شدہ درخواستوں پر ڈیمانڈ نوٹس جاری نہیں ہو سکا۔
صارفین نے ارجنٹ فیس ادا کر کے گیس کنکشن کی درخواستیں جمع کروائی تھیں، تاہم کمپنی کی جانب سے 25 ہزار روپے کے ابتدائی ڈیمانڈ نوٹسز کے اجرا میں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
اطلاعات کے مطابق ارجنٹ فیس کے اجرا کے تمام اختیارات کمپنی کے ہیڈ آفس میں مرکوز ہیں۔ ہیڈ آفس سے ڈیمانڈ نوٹس جاری ہونے کے بعد ریجنل دفاتر صارفین کے مقامات کا سروے مکمل کریں گے۔
سروے کے بعد سکیورٹی اور سروس چارجز کے ڈیمانڈ نوٹسز جاری کیے جائیں گے، اور دونوں نوٹسز کی ادائیگی کے بعد صارفین کو گیس میٹر نصب کر دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارجنٹ فیس
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔