کے الیکٹرک سے متعلق نیپرا کا فیصلہ کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے‘پاور ڈویژن
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) نیپرا نے کے الیکٹرک کے ملٹی ایئر ٹیرف کے حالیہ ریویو میں وہ حقائق سامنے لائے ہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ادارہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔ پاور ڈویڑن کے ترجمان کے مطابق کچھ حلقے اس فیصلے کو غلط رنگ دے کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ نیپرا کا یہ اقدام کراچی کے صارفین کے مفاد میں ہے۔ترجمان نے کہا کہ کے الیکٹرک ایک نجی ادارہ ہے جس کی کارکردگی کا تقابل سرکاری کمپنیوں سے کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فیسکو، آئیسکو اور گیپکو جیسے ادارے ریکوری، لائن لاسز میں کمی اور صارفین کی خدمت کے لحاظ سے بہتر ہیں۔ نیپرا کے فیصلے کے مطابق اب کے الیکٹرک اپنے واجبات میں من مانی نہیں کرسکے گا اور صرف وہی بقایاجات شامل کر پائے گا جو وہ ٹھوس شواہد سے ثابت کرے۔ترجمان نے بتایا کہ کے الیکٹرک کے منافع کو بھی ایک حد میں رکھا گیا ہے، اب اسے ڈالر سے منسلک غیرمنصفانہ منافع نہیں ملے گا۔ آزاد کنسلٹنٹ کی رپورٹ کے مطابق ادارے نے نقصانات میں کمی کے بجائے بھاری رقوم ضائع کیں، جو اس کی انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتی ہیں۔نیپرا نے فیصلہ کیا ہے کہ بند پاور پلانٹس کو سسٹم سے نکالا جائے تاکہ ان کے غیر ضروری اخراجات عوام پر نہ ڈالے جائیں۔ نیشنل گرڈ سے سستی بجلی دستیاب ہے، اس لیے کراچی میں لوڈشیڈنگ کا کوئی خطرہ نہیں۔ ترجمان کے مطابق یہ ریویو فیصلہ عوامی مفاد، شفافیت اور قومی بجٹ پر بوجھ کم کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک کے مطابق
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔