data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد ( اسٹاف رپورٹر ) کئی ماہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے پیپلز ایکسٹینشن کالونی لطیف آباد نمبر 4 میں گیس کی فراہمی مکمل طور پر بند کئے جانے کے خلاف علاقہ مکینوں کا جمعہ کے روز سوئی سدرن گیس کمپنی کے ہیڈکوارٹرز قاسم آباد مین روڈ پر بڑا احتجاجی مظاہرہ کرنے اور گیس بحالی تک دھرنا دینے کافیصلہ علاقہ مکین کئی ماہ سے گیس کی بندش اور صرف بھاری بھرکم بل باقائدگی سے بھیجنے پر بپھر گئے مسلسل کئی ماہ سے گیس کی عدم فراہمی کو لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا اور خواتین گھروں میں کھانا بنانے سے محروم ہو کر رہ گئی ہیں، ہوٹلوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے یا مہنگے داموں ایل پی جی خریدنی پڑ رہی ہے جس کے باعث ان کا گھریلو بجٹ متاثر ہو کر رہ گیا ہے، ایک طرف گیس کی فراہمی بند ہے اور دوسری طرف بھاری نا جائز بل بھیجے جارہے ہیں، علاقے کے رہائشی سینئر صحافی جاوید علی کے مطابق گیس کمپنی کے عزیز خان،الطاف شیخ،اشفاق گوپانگ، انجینئر نیک محمد سمیت تمام متعلقہ افسران کو بارہا مشکلات سے آگاہ کرنے باوجود گیس نہیں کھولی جارہی اور وہ صرف یہ کہہ کر جان چھڑالیتے ہیں کہ کل سدرن گیس کی ٹیم پہنچ جائے گی مگر سال گزرنے پر آج تک کوئی نہ آیا جس کے باعث علاقہ مکینوں بالخصوص خواتین، بچوں اور ضعیف العمر افراد شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور سلو میٹرکے نام پر سیکڑوں روپے کے اضافی چارجز پر مبنی بلوں کے اجرا نے ان کا جینا محال کر دیا ہے اور کوئی بھی سیاسی، لسانی، مذہبی یا قوم پرست جماعت گیس بندش ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کرنے کو تیار نہیں، یہ لوگ صرف الیکشن کے دوران ووٹ لینے آتے ہیں پھر عوام کو بھول جاتے ہیں، علاقہ کے لوگوں نے چیف جسٹس پاکستان، وزیر گیس و پیٹرولیم سیصورتحال کے کا نوٹس لینے اورپیپلز ایکسٹینشن کالونی لطیف آباد نمبر 4 میں فوری طور پر گیس کی فراہمی شروع کرائیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیس کی فراہمی

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال