WE News:
2026-07-24@02:20:48 GMT

اک مودی ہوتا تھا

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

انڈیا کے پاس 2  ائر کرافٹ کیریر آئی این ایس وکرانت  اور  آئی این ایس وکرانت دتیا ہیں۔ پہلگام حملے کے وقت آئی این ایس وکرانت بحیرہ عرب میں موجود تھا۔ 27 اپریل کو میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واپس  کرناٹکا میں واقع نیول بیس کدامبا کی جانب لوٹ گیا۔ انڈین نیوی ایک بلیو واٹر نیوی ہے جو کھلے سمندروں میں آپریٹ کرتی ہے۔ پاکستان کی گرین واٹر نیوی ہے جو اپنے پانیوں تک محدود رہتی ہے۔ وکرانت کی نیول بیس کی جانب واپسی یا تو تناؤ میں کمی کا اشارہ ہے یا پھر انڈیا اپنے اس درشنی پہلوان کو حفاظت کے لیے واپس بیس پر بھجوا رہا ہے۔

پہلگام حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے لیے انڈیا کے پاس مناسب ثبوت موجود نہیں ہے۔ دہلی میں انڈین وزارت خارجہ جی 7، جی 20 ، یورپی یونین، لاطینی امریکا کے اہم سفیروں کو بریفنگ دے چکی ہے۔ ان بریفنگز میں اب تک صرف یہ بتایا گیا ہے کہ پہلگام حملے کا پیٹرن یہ بتاتا ہے کہ اس میں پاکستانی گروپ ملوث ہیں۔ اہم ملکوں کے سفیروں نے انڈین حکومت سے کہا ہے کہ پیٹرن ثبوت نہیں اندازہ ہے، اس کی وجہ سے آپ ایک لڑائی شروع نہیں کر سکتے۔

دہلی میں سفارتکاروں کا اندازہ ہے کہ انڈیا کو انٹرنیشنل پریشر کی خاص پرواہ نہیں ہے۔ 2019 میں پلوامہ میں 40 انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ جیش محمد پر اس کا الزام لگا تھا۔ خیبرپختون خوا میں مانسہرہ کی تحصیل بالاکوٹ پر انڈیا نے تب ائر سٹرائیک کیا تھا۔ اس حملے سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ مودی نے بالاکوٹ سٹرائیک کو میڈیا میں اپنے سٹرانگ مین امیج کے طور پر کامیابی سے پیش کیا تھا۔

یہ  2025 ہے، 2019 میں  بالاکوٹ سٹرائیک کے ساتھ مودی اپنے لیے بینچ مارک بہت ہائی کر چکا ہے۔ اب اسے کوئی ایسا سٹرائیک کرنا ہے جس سے اس کا سٹرانگ مین امیج برقرار رہے بلکہ اور مضبوط ہو۔ یورپ میں انڈیا کی پہلے جیسے حمایت نہیں ہے، وجہ یوکرین جنگ میں روس سے تب سستی گیس تیل خریدنا جب یورپ کو یہ سہولت حاصل نہیں تھی۔ کینیڈا امریکا میں را کی کارروائیوں کے بعد انڈین حمایت میں کمی۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی اسحق ڈار سے بات چیت میں ثالثی کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی بات کی ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی بات کر چکے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے پاکستانی ہم منصب اور ڈپٹی وزیر اعظم اسحق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ سعودی حسب معمول پاکستان کے ساتھ ہیں اور کشیدگی میں کمی کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہلگام واقعے کے وقت انڈین وزیر اعظم سعودی عرب کے دورے پر تھے۔

نتن یاہو نے بھی مودی سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد ایک ٹویٹ کی ہے۔ اس ٹویٹ میں انڈیا کو مذہبی دہشتگردی کے خلاف اپنی مکمل سپورٹ کا بتایا ہے۔ ساتھ ہی اپنی اسی ٹویٹ میں نتن یاہو نے ٹرانسپورٹ کمیونیکیشن کاریڈور کی بات بھی کی جو انڈیا کو سعودی عرب کے راستے اسرائیل اور آگے یورپ تک ملائے گا۔ اس کاریڈور کی بات کرتے ہوئے شاعر اصل میں یہ کہہ رہا ہے کہ مہاشے! ایسے پنگے نہ لینا کہ ہوتے کم ہی بگڑ جائیں۔ اسی زمین میں ایرانی شاعری بھی پڑھیں جو نارتھ ویسٹ ٹرانسپورٹ کاریڈور میں انڈیا کا پارٹنر ہے اور چاہ بہار میں بھی۔ اب ثالثی پیشکش پر غور کریں۔

پاکستان ایران اور افغانستان سیکشن کے انڈین ہیڈ آنند پرکاش نے کابل میں افغان عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں متقی نے افغانوں کے لیے تجارتی، سٹوڈنٹ اور ہیلتھ ویزہ کی بحالی اور افغانستان میں سرمایہ کاری کی دعوت کی۔ پرکاش افغان طالبان کے موڈ کا اندازہ لگانے کابل پہنچے تھے۔ ایران اور سعودی عرب کے علاوہ افغانستان بھی کنیکٹویٹی انرجی کاریڈور کے پراجیکٹ کر رہا ہے۔ ان سب میں انڈیا کے علاوہ پاکستان بھی اہم ہے اور موجود بھی ہے۔ یہ سارے ملک انڈیا کو کسی ایڈونچر سے باز رہنے کا مشورہ ہی دے رہے ہیں۔ پاکستان نے ایک ہی دن میں افغان باڈر پر 54 دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے۔ ایسی کارروائی کیا انٹیلی جنس ٹپ کے بغیر ہو سکتی ہے۔ ٹپ کدھر سے آئی ہو گی اس کے لیے پاک اٖفغان حالیہ رابطے دورے اور مذاکرات پر غور کریں۔

پاکستانی وزیراعظم انڈیا کو مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کر چکے ہیں۔ اس پیشکش نے پاکستان کی پوزیشن مضبوط کی ہے۔ اب مودی پر ہے کہ وہ اپنے ہی پیدا کردہ اُبال کو نظرانداز کر کے حالات نارمل کرے یا پھر کوئی ایسا پنگا لے جس کے بعد مثالیں بنیں کہ اک مودی ہوتا تھا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

اردو کالم وسی بابا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اردو کالم میں انڈیا انڈیا کو نہیں ہے کے لیے

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف