ہمارا سارا مسئلہ ہی انڈیا کے ساتھ ہے، اختیار ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
رہنما مسلم لیگ (ن) اختیار ولی خان نے کہا کہ بڑی پارٹی والی بات سے نہ میں نے اتفاق کیا ہے اور نہ میں مانتا ہوں، اس وقت کا موضوع بھی نہیں ہے لیکن جہاں تک بات ہے نیشنل یونیٹی کی ایک دو چیزیں میں ایڈ کرنا چاہتا ہوں، جنرل صاحب نے بات کی کہ جو انڈیا نے کیا، انھوں نے تو ہماری طرف جنگ پھینکنے کی کوشش کی ہے، ہماری تیاری کیا ہے؟
ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہماری تیاری یہ ہے کہ ہم نے اس وقت انٹرنیشنلی جتنے ہمارے دوست ہیں سب کو ، سارے چینل ہم نے آن کر دیے ہیں، اس کے علاوہ ہماری جتنی تیاری ہے یہ جتنا جنگی سازوسامان ہم نے رکھا ہوا ہے، یہ شاہین، غوری، ابدالی، حطف ، نصر یہ ساری چیزیں ہماری کسی اور کے ساتھ تو لڑائی ہے نہیں ہمارا سارا مسئلہ ہی انڈیا کے ساتھ ہے۔
رہنما تحریک انصاف فیصل چوہدری نے کہا کہ یہ آپشن بالکل ورک ایبل ہے اور ورک ایبل ہونا چاہیے اگر آپ انڈیا کو وہاں سے جس قسم کے تھریٹس وار مونگرنگ ہو رہی ہے جو کچھ انھوں نے میڈیا میں شروع کیا ہے، اس کیلیے ضروری ہے کہ پاکستان سیاسی طور پر بھی ہم آواز ہو کہ وہاں میسج بھیجے اور یہ معاملہ عمران خان صاحب کی ذات جو ہے اس کو کوئی پسند کرے یا نا پسند کرے، اس وقت پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی آواز ہے ان پر لوگ اعتبار کرتے ہیں ان کی آواز بڑی بلند ہے، اے پی سی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ جماعتیں جو پارلیمنٹ میں نہیں بھی ہیں، وہ بھی اس میں شمولیت اختیار کریں کیونکہ ہماری قومی سالمیت کا مسئلہ ہے۔
دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ میجر جنرل زاہد محمود نے کہا کہ میں بطور ملٹری مین کبھی بھی اس کو ان کی جو انٹینشنز ہیں جو امپلیکیشنز ہیں اوور پلے ہیں یا انڈر پلے ہیں اس کو ریڈ تو ضرور کروں گا مگر اپنی حد تک، میں یہ دیکھنا چاہوں گا اور ایسیسمنٹ یہی رکھوں گا کہ اگران کے پاس کپیسٹی اور کیپے بیلٹی ہے انھوں نے ایک ماحول بنایا ہے جہاں تک وہ لائے ہیں اس کے لیے انہوں نے بہت محنت کی ہے انہوں نے پراپیگنڈا بھی کیا ہے تو ان کی کپیسٹی اور کیپے بیلٹی دیکھتے ہوئے میں کہوں گا کہ یہ تھریٹ بالکل موجود ہے، الحمدللہ ہماری تیاری پوری ہے، آپ کو ریاست کا اعتماد نظر آ رہا ہے، پاکستان کے تمام ٹی وی چینل حقیقی اپروچ پر رپورٹنگ کر رہے ہیں اسی لیے تو آپ کو بین کر دیا گیا ہے، آپ کا سچ روک دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انھوں نے کیا ہے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔