Express News:
2026-07-24@07:06:09 GMT

بڑے شہروں کے مسائل اور ہماری ترجیحات

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

پاکستان کے حکمرانی کے نظام میں بہت زیادہ شفافیت کا عمل نہیں ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ عام آدمی سے لے کر پڑھے لکھے افراد تک یا پالیسی سازی کی سطح پر فیصلے کرنے والے افراد اور ادارے موجودہ حکمرانی کے نظام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔حکمرانی کے نظام میں بہتری کے لیے ہمیں جن بڑی اصلاحات یا جدیدیت کے نظام کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس سے گریز کرنے کی پالیسی نے ہماری مشکلات میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔

بالخصوص بڑے شہروں کے مسائل بہت زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں اور اگر ہم نے فوری طور پر ان مسائل پر توجہ نہ دی یا کوئی ہنگامی اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں یہ بڑے شہر مزید بدحالی کا منظر نامہ پیش کریں گے۔اگر ہم کراچی،لاہوراور راولپنڈی،ملتان،فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ کو دیکھیں تو ان بڑے شہروں کا نظام بہت سی خرابیوں کے ساتھ ہماری توجہ کا مستحق ہے۔

ناجائز طور پر تجاوزات، بھاری بھرکم ٹریفک،پبلک ٹرانسپورٹ کا نہ ہونا،صاف پانی کی عدم دستیابی، سیوریج کا ناقص نظام،سڑکوں کی حالت زار،صفائی کے نظام کا نہ ہونا،امن وامان کی صورتحال اور جرائم میں اضافہ،کھیلوں کے میدان کی کمی،پولیس کا کمزور نظام،سرکاری اسپتالوں کے حالات ،ریگولیٹری اتھارٹیوں کی عدم شفافیت،کمزور نگرانی اور جواب دہی احتساب کا نظام جیسے مسائل سرفہرست نظر آتے ہیں۔

عمومی طور پہ حکمرانی کے نظام میں بڑے اور چھوٹے شہروں کے درمیان ایک بنیادی نوعیت کا فرق رکھا جاتا ہے۔ یہ فرق بڑے شہروں کے مسائل کی درجہ بندی کرتے ہوئے بہت سے غیر معمولی اقدامات کو تجویز کرتا ہے۔عمومی طور پر دنیا کے حکمرانی کے نظام میں بڑے شہروں کی سطح پرموجود نظام میں ماسٹر پلان کو بنیادی فوقیت حاصل ہوتی ہے۔بڑے شہروں کے ماسٹر پلان 10 سے 20 برسوں پر محیط ہوتے ہیں اور اسی ماسٹر پلان کو کامیاب بنا کر بڑے شہروں کے مسائل کو منصفانہ و شفاف بنیادوں پر حل کیا جاتا ہے۔

بڑے شہروں کے مسائل کے حل میں مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت کو بنیادی فوقیت حاصل ہوتی ہے۔یعنی بڑے شہروں میں سیاسی انتظامی اور مالی اختیارات کی تقسیم کو اس انداز سے کیاجاتا ہے کہ اس سے شہروں کی حقیقی ترجیحات متاثر نہ ہوں اور وسائل کی تقسیم بھی اس بنیاد پر ہو کہ کمزور لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو سکیں۔بڑے شہروں کے مسائل اس لیے بھی بڑھ گئے ہیں کہ ہمارے چھوٹے شہر بنیادی اعلی سہولتوں سے محروم نظر آتے ہیں۔جب چھوٹے شہروں میں بنیادی نوعیت کی سہولیات میسر نہیں ہوں گی تو لوگ اپنی بقا کے لیے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔اسی لیے آج کے جدیدیت کے نظام میں کوشش یہ کی جاتی ہے کہ بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں کو بھی بنیادی سہولتوں سے آباد کیا جائے اور یہ ہی عمل بڑے شہروں میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کم کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے بڑے شہروں کو ایک بے ترتیبی کے ساتھ آگے بڑھایا ہے اور کسی بھی سطح پر کسی روڈ میپ یا ماسٹر پلان کو فالو نہیں کیا گیا ، ہم نے شہروں کو بڑی بے ترتیب بنیادوںپر جوڑا ہے اور جو بھی حکمران آیا ہے اس کی ترجیحات ماضی کے حکمرانوں سے مختلف ہوتے ہیں اور وہ اقتدار میں آکر شہروں کے نقشے بدل دیتے ہیں۔بڑے شہروں کی تعمیر و ترقی میں ہم عام آدمی یا کمزور طبقات کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں مثال کے طور پر آپ کو بڑے شہروں میں فٹ پاتھ نظر نہیں آتے یا سڑکوں پرسائیکل سواری کے ٹریک دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔اسی طرح بڑے شہروں میں گاڑیوں کی بھرمار نے پورے شہر کے ٹریفک کے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ ہم لوگوں کو کئی کئی گھنٹوں تک سڑکوںہی پر خواری کرنی پڑتی ہے۔اسکولوں، کالجوں اور دفتری اوقات کار میں شہر کی ٹریفک بدترین منظر پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور ان کو کنٹرول کرنے کا نظام بھی ناقص ہے۔

اگرچہ حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ کے جدید نظام متعارف کروائے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ہمارے بڑے شہروں میں موٹر سائیکل رکشہ موجود ہے اور اگر ان کو نکال دیا جائے تو شہروں میں چھوٹے علاقوں سے بڑے علاقوں تک کا سفر مشکل ہو جائے گا۔اسی طرح بڑے شہروں کے کھیلوں کے میدان اس حد تک کمرشلائز ہو گئے ہیں کہ عام نوجوان بغیر پیسے دیے ہوئے ان میدانوں میں کھیل نہیں سکتے۔لڑکیوں کے لیے تو بڑے شہروں میں کھیلوں کے میدان ہی موجود نہیں ہیں۔بڑے شہروں میں کمیونٹی سینٹرز کی عدم موجودگی بھی لوگوں کو مختلف تفریحی مواقعوں سے محروم کرتی ہے۔بڑے شہروں کی آلودگی بھی شہریوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کر رہی ہے۔

اسی طرح سے بڑے شہروں میں بننے والی بلڈنگز یاکاروباری سطح کی عمارات کی تعمیر میں بھی نہ صرف ایک بے ترتیبی ہے بلکہ تعمیرات سے جڑے قانون کو بھی فالو نہیں کیا جاتا۔بڑے شہروں میں بہت سے ترقیاتی منصوبے بغیر منصوبہ بندی کے شروع ہوتے ہیں اور بہت سے منصوبوں کی صوبائی اسمبلیوں سے منظوری بھی نہیں لی جاتی۔اسی طرح وہ علاقے جہاں کمرشلائزیشن نہیں ہونی چاہیے تھی وہاں بھی کمرشلائزیشن نے شہروں کی صورتحال کو مزید بدنما کردیا ہے۔

ہم شہروں کو درست کرنے کی بجائے ان کا پہلے سے موجود حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ بڑے شہروں کی ترقی جہاں ترقیاتی منصوبوں سے جڑی ہوئی ہے وہیں انسانی ترقی اور شہروں کی ترتیب کی شفافیت کو ممکن بنانا بھی حکومتی ترجیحات اور خاص طور پر ماحولیاتی آلودگی سے شہروں کو بچانا ان کا فرض بھی ہے۔

بنیادی طور پر آج کے جدیدیت اور مبنی حکمرانی کے نظام میں خود مختار اور شفاف مقامی حکومتوں کے نظام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔مقامی حکومتوں کا مربوط اور جامع نظام ہی بڑے شہروں کے مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔بڑے شہروں کا ماسٹر پلان جہاں صوبائی حکومت کی ترجیحات کا حصہ ہوتا ہے وہیں مقامی حکومتیں اپنی ترجیحات کی بنیاد پر اس ماسٹر پلان پر اتفاق رائے کے عمل کو پیدا کرتی ہیں۔ مقامی حکومتوں کا نظام ہی منصفانہ نگرانی اور جواب دہی کے نظام کو ممکن بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔لیکن ہم دنیا کے جدید نظام سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ 1973 کے آئین میں مقامی حکومتوں کو تیسری حکومت کا درجہ ملنے کے باوجود ہم مقامی حکومتوں کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔اس وقت بھی پنجاب مقامی حکومتوں کے نظام سے محروم ہے اور دیگر صوبوں میں بھی موجود مقامی حکومتوں کے نظام کو اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے شہر اپنی ترقی کے تناظر میں بہتری کو پیدا کرنے کی بجائے خرابیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ 18 ویں ترمیم کی منظوری کے باوجود ہمارے بڑے شہر اختیارات کی تقسیم سے محروم ہیں اور صوبائی سطح پر اضلاع میں مقامی حکومتوں کے نظام کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اصل میں ہمارا مجموعی سیاسی اور ریاستی نظام اختیارات کی تقسیم کے خلا ف ہے اور ہم اختیارات کی اس تقسیم کو اپنے لیے ایک بڑا سیاسی خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہمیں اصولی طور پر بڑے شہروں سے جڑے مسائل کا بہتر طور پر ادراک کرنا ہوگا اور وہاں موجود مسائل کو اس کی ترجیحات کی بنیاد پر سمجھنا ہوگا۔سیاسی جماعتیں اور ان سے جڑی قیادت کو بھی بڑے شہروں کے مسائل پر وہ ادراک نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔یہ ہی وجہ ہے کہ خود بڑی سیاسی جماعتوں کا اپنا روڈ میپ موجود نہیںاور نہ ہی وہ اقتدار میں آکر وہ کردار ادا نہیں کرتیںجو لوگوں کی ان سے توقعات وابستہ ہوتی ہیں۔

اسی طرح اب وقت آگیا ہے کہ ہم بڑے شہروں کی ترقی کے ماڈل پر غور کریں اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ کیا وجہ ہے ہم ان بڑے شہروں میں بڑی سرمایہ کاری کرنے کے باوجود ترقی کے ماڈل کو شفافیت میں تبدیل نہیں کرسکیں۔ہمیں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ چھوٹے شہروں کی ترقی کے ماڈل کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا کیونکہ جب تک چھوٹے شہروں یا دیہی علاقوں سے لوگوں کی آمد کو بڑے شہر میں آنے سے نہیں روکیں گے بڑے شہروں کا بوجھ بڑھتا ہی جائے گا ۔

اس کا حل چھوٹے شہروں کی ترقی سے ہی جڑا ہوا ہے۔لیکن ہماری حکمرانی کے نظام میں ترجیحات کی عدم شفافیت ہی بڑی خرابی کے زمرے میں آتی ہے۔اس لیے اب بھی وقت ہے کہ ہم دنیا میں ہونے والی ترقی کے عمل سے سیکھیںاور اپنی موجودہ ترجیحات کو تبدیل کریںکیونکہ موجودہ حکمرانی کا نظام ہماری ضرورتوں کو پورا نہیں کرتا۔بڑے شہروں کے حالات ہم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم اب بڑے شہروں کے ماڈل کو نئے سرے سے ترتیب دیں اور کچھ نیا کرنے کی کوشش کریں۔

یہ جو پالیسی ہے کہ ہم نے روائتی طور طریقوں سے حکمرانی کے نظام کو آگے بڑھانا ہے اس سے اب ہمیں گریز کرنا چاہیے۔ کیونکہ لوگ بڑے شہروں میں رہنا چاہتے ہیں مگریہاں موجود مسائل ان کے لیے کافی گھمبیر ہوگئے ہیں اور وہ ان مسائل کا حقیقی طورپرحل چاہتے ہیں۔لیکن یہ کام آسانی سے نہیںہوگا بلکہ بڑے شہروں کے غیر معمولی حالات ہیں ان میں غیر معمولی اقدامات ہی مسائل کا حل بن سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں کے نظام کو حکمرانی کے نظام میں بڑے شہروں کے مسائل یہ ہی وجہ ہے کہ شہروں کی ترقی بڑے شہروں میں بڑے شہروں کا بڑے شہروں کی چھوٹے شہروں اختیارات کی ماسٹر پلان چھوٹے شہر کی تقسیم مسائل کو شہروں کو ہے کہ ہم کرنے کی کا نظام بڑے شہر ترقی کے ہیں اور کے ساتھ میں بہت کے ماڈل کے لیے ہیں کہ ہے اور کی عدم

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا