کسی بھی ملک کی ترقی کا دارو مدار وہاں کے تعلیمی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخلے اسی لیے دلواتے ہیں تاکہ اُن کے بچے آگے جا کر ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، اعلیٰ کردارکے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان اور اپنے ملک کی ترقی کا سبب بھی بنیں، ایسے ہی اسکولوں میں بھی بچوں کو تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت بھی دی جاتی ہے۔
اساتذہ طلبہ کو اچھی تعلیم دینے کے ذمے دار ہوتے ہیں جس سے آگے جا کر وہی طلبہ اپنے ملک کے معمار بنتے ہیں۔ بے شک تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم ایک قابل فروخت حقیقت بنتی جا رہی ہے جہاں معیار تعلیم دولت سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان میں موجود ہ تعلیمی نظام پر پرائیویٹ اسکولوں کا راج ہے۔ پاکستان میں پرائیویٹ اسکولز ایسو سی ایشن ہونے کے باوجود پاکستان کے مختلف شہروں میں موجود پرائیویٹ اسکول اپنے اپنے حساب سے تعلیمی نظام چلا رہے ہیں۔ جیسا کہ کئی نجی اسکولوں میں دیکھنے میں آیا ہے کہ بچے کے داخلے کے وقت پہلے والدین کی تعلیم اور اُنکا انٹرویو بھی لیا جاتا ہے جب کہ اگر والدین پڑھے لکھے نہ ہوں یا اُن کے اسکول کے معیار پر بچے کے والدین پورا نہ اُتریں تو بچے کو بھی داخلہ نہیں دیا جاتا۔
مطلب اگر کوئی والدین پڑھے لکھے نہیں ہیں تو اُنکے بچے بھی اچھے اور معیاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں سمجھے جاتے۔ ایسے ہی تعلیمی اداروں نے پاکستان میں تعلیم کو مختلف حصوں میں بانٹ دیا ہے جیسا کہ اے لیول، اولیول، کیمبرج اسکول سسٹم اور دیگر ایسے ہی کئی نظام رائج ہیں جن پر تکیہ کر کے پرائیویٹ اسکولز اپنے کاروبار چمکا رہے ہیں۔
ذرایع کے مطابق اس وقت پاکستان میں 198000 کے قریب پرائیویٹ اسکولز رجسٹرڈ ہیں، جن میں 200,00000 طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ اس کے علاوہ جو چھوٹے چھوٹے گلی محلوں میں اسکول کھولے گئے ہیں یا اُن میں زیر ِ تعلیم طلبا کی شماریات کہیں درج ہی نہیں ہے۔
ایسے ہی مختلف اسکولوںمیں تعلیمی نظام بکھرا پڑا ہے جسکی وجہ بٹا ہوا تعلیمی نظام ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں کو چلانیوالوں نے جہاں تعلیمی نظام کو بانٹا ہے وہیں تعلیم کی قیمتیں بھی لگا رکھی ہیں، مختلف اسکولوں کی مختلف فیسیں ہیں، کسی کی کم تو کسی کی زیادہ تو کچھ اسکول کی بہت زیادہ۔ جیسے گلی محلوں میں کھولے جانے والے اسکولوں کی اُس علاقے کے حساب سے فیسیں ہیں، پھر شہر کے بورڈز سے تعلق رکھنے والے اسکولوں کی فیسیں مختلف ہوں گی، جب کہ نامور اسکولوں نے جو غیر ملکی نظام تعلیم چلا رکھے ہیں ایسے اسکولوں تک ہر شخص کی رسائی تو ممکن ہی نہیں ہے۔
ان اسکولوں کی فیسیں لاکھوں روپے ماہانہ ہوتی ہیں جب کہ ان اسکولوں میں صرف اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے بچے ہی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ درمیانہ طبقے سے تعلق رکھنے والے یا گلی محلوں کے نجی اسکولوں کی فیسیں کچھ کم ہوں گی اُن کی فیسیں بھی ماہانہ 5000 سے کم نہیں ہیں۔
جنکی ادائیگی والدین کو بہت مہنگی پڑتی ہے، جب کہ نجی اسکولوں نے والدین کو لوٹنے کے نت نئے طریقے اپنا رکھے ہیںجو صرف ماہانہ فیسوں پرہی ختم نہیں ہوتے، داخلے کے وقت میں داخلہ فیس، تعلیمی سال کے شروع ہونے پر سالانہ فیس، ٹیوشن فیس، سیکیورٹی ڈیپوزٹ، کاپیوں، کتابوں اور اسکول یونیفارم بھی اسکولوں سے ہی لینے کی شرط، پھر سال بھرمیں اسکولوں میںمنائے جانے والے مختلف دنوں کے اخراجات جیسے گرمی کی شروعات ہونے پر سمر ڈے، سردی کی شروعات پر ونٹر ڈے، رنگوں، پھولوںاور پھلوں کے دن، کھیلوں کے دن اور اُن کھیلوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے یونیفارمزکی خریداری کے اخراجات، مختلف تہواروں کو منانے کے لیے الگ اخراجات، جیسے عید ملن پارٹی، ویلکم پارٹی، فئیر ویل پارٹی کے نام پر لی جانیوالی رقوم، پھر پکنک کے نام پر لی جانیوالی اچھی خاصی رقم۔
حتی کہ سال بھر میں بچوں کے استعمال کی اسٹیشنری بھی اسکولوں سے ہی خریدنی پڑتی ہے، جب کہ اسکول انھی اشیاء کو مارکیٹ کی نسبت زیادہ مہنگی کر کے بیچتے ہیں۔
اُس پر بھی نجی اسکولوں کا والدین کو لوٹنے سے پیٹ نہیں بھرتا تو گرمی کی ہونے والی تعطیلات یعنی جون، جولائی کی فیسوں کے ذریعے والدین کی جیب کو خالی کیا جاتا ہے۔ پھر گرمیوں کی تعطیلات میں نجی اسکول انھی اسکولوں میں سمر کیمپ کی شکل میں ایک اور بڑا خرچہ والدین کی نذر کر دیتے ہیں چاہے حالانکہ یہ والدین پر منحصر کرتا ہے کہ آیا وہ اپنے بچوں کو اس کیمپ میں بھیجنے کے لیے آمادہ ہوتے بھی ہیں یا نہیں لیکن زیادہ تر بچوں کے والدین اسکولوں کے زور دینے پر بچوں کو سمر کیمپ میں بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
پھر یہ سوال بھی اُٹھتا ہے کہ کیا مہنگی فیسوں سے بہترین تعلیم کی ضمانت ملتی ہے؟ تو اس کا جواب بھی یہی ہے کہ مہنگے اسکولوں کی ہزاروں روپے فیسیں بھی اچھی اور معیاری تعلیم کی ضمانت نہیں دے سکتیں کیونکہ پاکستان کے نجی اسکولوں کا تعلیمی نظام بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان اسکولوں میں میٹرک، انٹریا بہت ہوا تو گریجویٹ کیے ہوئے اساتذہ کو کم سے کم تنخواہ پر رکھا جاتا ہے، جو سالوں سے نسل در نسل پڑھائے جانے والے نصاب کی پرانی کاپیوں سے دیکھ کر طلبا کو بورڈ پر کام لکھوا دیتے ہیں،
ایسے اساتذہ کو تعلیمی سال کے ختم ہونے سے پہلے جماعت کا نصاب پورا کروانے کی جلدی ہوتی ہے، بچوں کو جماعت میں نصاب کی دہرائی اور صرف رٹے لگوائے جاتے ہیں، پھر چاہے بچوں کو سمجھ آئے یا نہیں اس بات سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اور جو چیز اساتذہ کو خود سمجھ نہیں آتی وہ گھر کے لیے کام دے دیا جاتا ہے۔ نصاب میں کوئی جدیدتبدیلی نہیں ہوتی تو بچے بھی پھر صرف نصاب کو رٹہ لگانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ایسے نصاب بچوں کو تعلیم سے دور کرنے اور اُنکی تعلیمی دلچسپی میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ اسکولوں کے اساتذہ کا اسکول کے ہی بچوں کو ٹیوشن پڑھانے پر پابندی لگائی جائے کیوں کہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اساتذہ ایسے طلبہ کو خاص توجہ دیتے ہیں جو اُن کے پاس ٹیوشن پڑھنے آتے ہیں جس سے فیورازم پیدا ہوتا ہے جب کہ دوسرے بچے کی زیادہ قابلیت یا زیادہ نمبر آتے ہوئے بھی اُن کے نمبرز کاٹ لیے جاتے ہیں اور بچے کا رینک کم کر دیا جاتا ہے۔
جب کہ ایسے کئی دیگر معاملات اور تبدیلیاں ہیں جو کہ نجی اسکولوں میں ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے سبسڈی والے نجی اسکولوں کا قیام بھی ایک اچھا اقدام ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ حکومتی سطح پر ایسے پیشہ ورانہ اور جدید اسکولوں کا قیام بھی ہونا چاہیے جہاں امیر ہو یا غریب سب کے لیے مساوی تعلیمی مواقعے میسر ہوں جس سے ترقی اور خوشحالی کا راستہ بھی ممکن ہو سکے گا۔
اسکولوں میں جب ایسے سخت قوانین ہوں گے تو زیادہ طلبہ کے لیے قابل رسائی بھی ممکن ہو سکے گی، جب کہ لوگوں کا تعلیم کی جانب رجحان بھی بڑھے گا۔ نظامِ تعلیم کے بہتر ہونے سے بیرونِ ممالک پڑھنے کے لیے جانے والے طلبہ بھی اپنے ہی ملک میں تعلیم حاصل کر سکیں گے جب کہ جیسے چند سال قبل بیرون ممالک سے لوگ پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے ویسے ہی پاکستان کے معیارِ تعلیم کو دیکھتے ہوئے دوبارہ بیرونِ ممالک سے طلبہ پاکستان میں پڑھنے آسکیں گے۔ جس سے ملک کا معاشی نظام بھی بہتر ہو گا اور ملک پھر سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سے تعلق رکھنے والے پرائیویٹ اسکول تعلیم حاصل کر تعلیمی نظام پاکستان میں نجی اسکولوں اسکولوں میں اسکولوں کا اسکولوں کی نجی اسکول میں تعلیم جانے والے تعلیم کی کی فیسیں دیتے ہیں ایسے ہی بچوں کو جاتا ہے ا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔