آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں کام کرنے والوں کو اپنے کام میں ماہر ہونا چاہیئے، دوسروں کیلئے مثال قائم کرنا چاہیئے اور اچھے باہمی تعلقات استوار کرنا چاہیئے تاکہ سب مل کر ملک کو آگے لے جا سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ ملک میں تعلیمی نظام نوآبادیاتی نظریات کے طویل مدتی اثر کے تحت تیار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ ملک کے لئے ہندوستانی فلسفے پر مبنی متبادل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آر ایس ایس کے ذریعہ منعقدہ "قومی چنتن بیتک" کے دوسرے دن مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ اس کے لئے نقطۂ نظر سنجیدہ، حقیقت پسندانہ اور مکمل طور پر ہندوستانی ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے میدان میں کام کرنے والوں کو اپنے کام میں ماہر ہونا چاہیئے، دوسروں کے لئے مثال قائم کرنا چاہیئے اور اچھے باہمی تعلقات استوار کرنا چاہیئے تاکہ سب مل کر ملک کو آگے لے جا سکیں۔ ایک بیان میں شکشا سنسکرت اُتھان نیاس کے قومی جنرل سکریٹری اتل کوٹھاری نے دعویٰ کیا کہ ہندوستانی فلسفے پر مبنی تعلیمی نظام سماجی اصلاح اور قومی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

اتل کوٹھاری نے دعویٰ کیا کہ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت سنگین سماجی، ثقافتی اور ماحولیاتی چیلنجوں کا بھی سامنا ہے۔ موہن بھاگوت کی موجودگی میں میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اخلاقی اقدار میں گراوٹ، خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور بگڑتے ہوئے ماحولیاتی مسائل کو گہرے سماجی بحران کی علامت قرار دیا۔ واضح رہے کہ قبل ازیں بھی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت مختلف بیانات دیتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے موہن بھاگوت نے آبادی میں اضافے کی شرح (فرٹیلیٹی ریٹ) میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب کسی معاشرے کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.

1 سے نیچے آجاتی ہے تو وہ معاشرہ بتدریج تباہ ہو جاتا ہے۔ بھاگوت نے یہ بیان ایک پروگرام کے دوران دیا تھا جس میں انہوں نے آبادی کی پالیسی کو لے کر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرنا چاہیئے نے کہا کہ انہوں نے ایس ایس

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار