پولیس کی ترجیح منشیات کے بڑے ڈیلرز اور سپلائرز کو ٹارگٹ کر کے سپلائی چین توڑنا ہے: آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ پولیس کی ترجیح منشیات کے بڑے ڈیلرز اور سپلائرز کو ٹارگٹ کر کے سپلائی چین توڑنا ہے۔
منشیات کی روک تھام پر آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ’جیو نیوز‘ سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ منشیات کی سپلائی آن لائن اور کوریئر سے کیے جانے کی نشاندہی ہوئی ہے، اس پر حکمت عملی تیار کر رہے ہیں، منتخب پولیس افسران کو منشیات ڈیلرز اور سپلائرز کے خلاف ٹاسک دیے گئے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے میں منشیات کے 137 میں سے 71 اہم ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ منشیات کی ترسیل کو روکنے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس اور صوبے کے بارڈر پر میکنزم بہتر کرنا ہوگا، سندھ میں منشیات کی روک تھام کے لیے سخت قانون بنایا گیا ہے۔ پولیس، محکمہ ایکسائز اور اے این ایف کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
دنیا کے دیگر بڑے شہروں کی طرح پاکستان کے معاشی حب، کراچی میں بھی منشیات کا دھندا زوروں پرہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انفورسمنٹ کے ساتھ ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن پرکام کرنے کے بہتر اثرات سامنے آئیں گے، تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام پر سخت کارروائی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے والدین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کا کردار انتہائی اہم ہے، والدین اور تعلیمی اداروں کی انتظامیہ بچوں کے رویے کو بہتر طور پر جان سکتے ہیں، والدین بچوں کے غیرمعمولی رویے اور معلومات کو پولیس سے ضرور شیئر کریں۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ طلبہ تک منشیات پہنچنے پر تعلیمی اداروں کو بھی معاملے کو رپورٹ کرنا چاہیے تاکہ تدارک کیا جا سکے، منشیات کے تدارک کے لیے والدین، تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: منشیات کی روک تھام تعلیمی اداروں غلام نبی میمن میں منشیات منشیات کے کے لیے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔