اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خورِیو نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے بین الاقوامی، خطے اور ملکی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے ایران-اسرائیل جنگ کے تناظر میں ایران کی حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ فلسطین کے مسئلے اور غزہ میں جاری انسانی المیے پر گہرے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے خلاف روس سے مداخلت اور فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

روسی سفیر البرٹ خورِیو نے غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کی بے دخلی کے معاملے پر روس کی جانب سے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے روسی اقدام پر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے کی گئی تحسین کا بھی تبادلہ کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے ایشیاء-یورپ سلامتی کے عنوان سے روس کی طرف سے منعقد کی جانے والی کانفرنس کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیا، جس کا مقصد باہمی تنازعات کا حل تلاش کرنا ہے۔ روسی سفیر نے نوآبادیاتی نظام کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا اور دونوں فریقوں نے اس نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے پر بھی اتفاق رائے ظاہر کیا۔ ملاقات کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے روسی سفیر کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس موقع پر جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا اسجد محمود بھی موجود تھے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان روسی سفیر

پڑھیں:

پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا

پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار