مومنہ اقبال کی صنفی شناخت سے متعلق جعلی ویڈیو پر شدید ردعمل، بے بنیاد الزامات کو مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی صنفی شناخت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک جعلی ویڈیو پر شدید ردعمل دیا ہے۔ اداکارہ کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ان کے اگست 2022 کے ایک انٹرویو کلپ کو ایڈٹ کرکے گمراہ کن انداز میں پھیلائی گئی، جسے اب تک 45 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے مومنہ اقبال نے حالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا کہ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد انہیں میڈیا نمائندوں کی متعدد کالز موصول ہوئیں اور وہ اس صورتحال سے حیرت اور پریشانی کا شکار ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی لڑکی سے اس کی صنفی شناخت سے متعلق سوال کرنا نہایت تکلیف دہ اور غیر اخلاقی عمل ہے اداکارہ نے مزید بتایا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں کئی افراد نے وضاحت دینے کا مشورہ دیا، لیکن انہوں نے سوچا کہ ایسی بے بنیاد اور جھوٹی باتوں پر ردعمل دینا خود ان باتوں کو اہمیت دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت ہوتی تو وہ ہمت کے ساتھ سچ کو تسلیم کرتیں، لیکن جب حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تو جھوٹ پر صفائی دینا بھی غیر ضروری ہے یاد رہے کہ مومنہ اقبال نے کئی مقبول ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں اور وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں ایک باوقار اور معتبر مقام رکھتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد ان کے مداح سوشل میڈیا پر ان کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں اور جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کی مذمت کر رہے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مومنہ اقبال
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔