ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر: ڈپٹی کمشنر صوابی عدالت طلب
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
پشاور:
ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے الزام میں عدالت نے ڈپٹی کمشنر صوابی کو طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے ویمن یونیورسٹی صوابی کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر صوابی اور وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی صوابی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔
درخواست گزار کے وکیل محمد حمدان ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر صوابی نے بغیر اجازت ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو اپنے ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر شیئر کی، جس سے طالبات کی پرائیویسی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نہ صرف طالبات بلکہ مقامی افراد نے بھی اس اقدام پر اعتراض کیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا، ’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ جس پر اے اے جی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے جواب جمع کرایا جا چکا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ویمن یونیورسٹی کا اس معاملے پر مؤقف کیا ہے اور وائس چانسلر کیوں پیش نہیں ہوئے؟
وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری افسران کو صرف ایکس (سابقہ ٹویٹر) اور فیس بک کے استعمال کی اجازت ہے، جب کہ یہ نوٹیفکیشن 2018 میں جاری ہوا تھا۔ ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے 2025 میں اپنے ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر یونیورسٹی کی ویڈیوز اپلوڈ کیں، جو سراسر خلاف ضابطہ اقدام ہے۔
عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 23 جولائی مقرر کرتے ہوئے وی سی ویمن یونیورسٹی صوابی اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان یونیورسٹی کی ویڈیو ڈپٹی کمشنر صوابی ویمن یونیورسٹی ٹک ٹاک
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔