بارش کے ممکنہ نقصان سے بچائو کیلیے مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مٹیاری(نمائندہ جسارت)ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد یوسف شیخ نے کہا ہے کہ مون سون کے دوران ممکنہ نقصانات سے بچاؤ اور بروقت نکاسی آب کے مؤثر انتظامات کیلیے تمام متعلقہ محکموں، بلدیاتی نمائندوں اور اداروں کے درمیان مکمل رابطہ، تعاون اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔انہوں نے یہ بات لطیف ہال، ڈپٹی کمشنر سیکرٹریٹ مٹیاری میں مون سون 2025ء کی پیشگی تیاریوں، ڈی سِلٹنگ اور ڈی واٹرنگ پلان سے متعلق بلدیاتی نمائندوں اور متعلقہ افسران کے ہمراہ منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ بارشوں سے قبل نالوں کی صفائی، مشینری کی دستیابی، عملے کی حاضری اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں بروقت مکمل کی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلدیاتی نمائندے اپنے اپنے علاقوں کے مسائل اور تجاویز ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ایک مؤثر اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات کیے جا سکیں۔اجلاس کے دوران نکاسی آب کے نظام، نالوں کی صفائی، ڈی واٹرنگ پوائنٹس کی نشاندہی، ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کی تیاری اور ضلعی سطح پر مربوط رابطہ کاری کے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔