امریکا سے امداد نہیں، تجارت چاہتے ہیں: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا سے امداد نہیں بلکہ باہمی تجارت چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے اور جلد مثبت پیش رفت متوقع ہے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے کشیدگی نہیں چاہتا، بھارت نے بغیر ثبوت الزامات لگا کر ہمیشہ اشتعال انگیزی کی۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا ہر ردعمل اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دفاع میں ہوتا ہے۔ 9 مئی کے واقعے پر ان کا کہنا تھا کہ قانون اپنا راستہ لے گا، حکومت کا کیسز سے کوئی تعلق نہیں انہوں نے خطے میں روابط بڑھانے کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ حالیہ کابل دورے میں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریلوے معاہدہ طے پایا، جس سے خطے میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔