سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا: شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک :سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا ہے۔
ٹنڈو جام میں سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب متاثرین کو گھر بناکردے رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ سندھ کو گھر بناکردینے کا ٹاسک دیا ہے،سیلاب متاثرین کے پاس رہنے کیلئے چھت نہیں تھی۔
سندھ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہی ہے ،ٹرانسپورٹ اور صحت کے شعبہ پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔
پی ٹی آئی کارکنوں کی سزا معطل ،ضمانتیں منظور
50 لاکھ گھر بنانےکااعلان کرنے والے ایک بھی گھر نہ بنا سکے ،چاہے موٹر وے بنالو،چھت فراہم کرنے سے بڑی عبادت نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ21 لاکھ گھر بنانا دنیا کا سب سے بڑا پراجیکٹ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔