کلاؤڈ برسٹ کیا ہے اور یہ معاملہ کیوں پیش آتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
پاکستان میں رواں سال مون سون کے سیزن میں کلاؤڈ برسٹ یا آسمان پھٹنے کے کئی واقعات رونما ہوئے جس میں جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
پنجاب کے علاقے چکوال میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں سب سے زیادہ 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، اس کے علاوہ جڑواں شہروں میں بھی کلاؤڈ برس کے باعث ندی، نالے اور شہری علاقے زیر آب آگئے تھے۔
سندھ کے علاقے حیدرآباد میں بھی کلاؤڈ برسٹ کے باعث تقریبا 70 فیصد شہر کی گلیاں کئی کئی فٹ پانی سے بھر گئیں تھیں اس کے علاوہ گلگت کے علاقے چلاس میں شاہراہ بابو سر پر کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلے کے نتیجے میں سیاحوں کی 5 گاڑیاں بہہ گئیں تھیں جس میں 19 کے قریب سیاح جاں بحق ہوئے۔
کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟
بادل کا پھٹنا ایک قدرتی عمل ہے جس کے نتیجے میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش ہوتی ہے اور غیرمعمولی برسات کی وجہ سے اکثر سیلابی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوتا ہے۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
سائنسی ماہرین کے مطابق زمین اور بادلوں کے درمیان ایک گرم ہوا کی لہر ہے جو بادلوں سے اوپر جاتی ہے تو پانی رک جاتا ہے اور یہ عمل کچھ دیر کیلیے ہوتا ہے جس کے بعد دباؤ کے نتیجے میں کلاؤڈ برسٹ ہوتا ہے۔
ہوا کا دباؤ کم ہوتے ہی بادل پانی سے بڑی مقدار میں دھار کی صورت میں زمین پر گرتا ہے۔
شہری علاقوں سے زیادہ یہ واقعات پہاڑی علاقوں میں زیادہ تر یہ واقعات ہوتے ہیں اور موسمیاتی ماہرین کے نزدیک ایک گھنٹے میں 200 ملی میٹر بارش کو کلاوڈ برسٹ مانا جاتا ہے۔
کلاؤڈ برسٹ کیا ہوتا ہے اور ایک دم سے اتنی بارش کیسے آجاتی ہے؟#ExpressNews #BreakingNews #CloudBurst #Rain #Flood #Weather #Report #Chakwal #LatestNews #Pakistan pic.
ماہرین کا ماننا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین اور بادلوں کے درمیان موجود لہر آبر آلود موسم میں اپنی جگہ تبدیل کررہی ہے وگرنہ پہلے ایسے واقعات شاز ہوتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے نتیجے میں کلاؤڈ برسٹ ہوتا ہے ہے اور
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک