WE News:
2026-07-24@07:23:08 GMT

فی الحال کسی فوری کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ نہیں، محکمہ موسمیات

اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT

فی الحال کسی فوری کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ نہیں، محکمہ موسمیات

پاکستان میں کلاؤڈ برسٹ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہورہا ہے، جس سے گلگت بلتستان، چترال، سوات اور شہری علاقوں جیسے اسلام آباد و راولپنڈی شدید متاثر ہو رہے ہیں، محکمہ موسمیات (PMD) نے اس رجحان کو موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

کلاؤڈ برسٹ ایک شدید موسمیاتی واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ہوتی ہے، جو عموماً سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی جہلم میں کلاؤڈ برسٹ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے نقصان کی تفصیل جاری کردی

نیشنل ویدر فورکاسٹ سینٹر کے ڈائریکٹر محمد عرفان ورک نے سرکاری خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ آئندہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے، تاہم فی الحال کسی فوری کلاؤڈ برسٹ کا خطرہ نہیں۔

انہوں نے شہریوں، خصوصاً سیاحوں کو پہاڑی علاقوں کا سفر مؤخر کرنے اور دریاؤں کے قریب رہائش پذیر افراد کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔

عرفان ورک نے سیلابی پانی کے بہاؤ کو روکنے اور نقصان کم کرنے کے لیے گھروں میں نکاسی آب کے بہتر انتظامات اور کسانوں کو فصلوں کی منصوبہ بندی میں تبدیلی کی بھی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں: بروقت اقدامات سے بڑے نقصان سے بچ گئے، مزید کلاؤڈ برسٹس کا اندیشہ ہے، وزیراعظم

کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ماہر حیاتیات ڈاکٹر غلام عباس کے مطابق بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت سے فضا میں نمی کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جو کسی مقام پر اچانک خارج ہوکر طوفانی بارش کا سبب بنتی ہے۔ ان کے مطابق ہنزہ، اسکردو، مری، چترال، اسلام آباد، پشاور اور راولپنڈی آئندہ برسوں میں زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بے قابو شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، غیر متوازن مون سون پیٹرن اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے صورتحال کو مزید سنگین بنادیا ہے۔

یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ بھارت، نیپال، چین اور امریکا جیسے ممالک بھی کلاؤڈ برسٹ کے جان لیوا اثرات کا سامنا کرچکے ہیں۔ 2013 میں بھارت میں اتراکھنڈ میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ میں 5000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ چین کے گانسو صوبے میں 2010 میں 1100 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ دنوں میں کن اہم سیاحتی مقامات میں بارشیں اور سیلاب متوقع ہے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

ماہرین نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ریڈار اور سیٹلائٹ پر مبنی ابتدائی وارننگ سسٹمز، مضبوط ڈرینیج انفراسٹرکچر، جنگلات کی بحالی اور ماحول دوست منصوبہ بندی پر زور دیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو نہ صرف قومی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ عالمی تعاون بھی ناگزیر ہوگیا ہے تاکہ انسانی جانوں، زراعت، اور بنیادی ڈھانچے کو بچایا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بارش بارشیں پاکستان عرفان ورک محکمہ موسمیات مون سون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان عرفان ورک محکمہ موسمیات محکمہ موسمیات کلاؤڈ برسٹ کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • مون سون کا طاقتور سپیل جاری، مختلف علاقوں میں آج بھی بارشوں کی پیشگوئی
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ