جنسی زیادتی کیس میں ٹرمپ کی اپیل مسترد، 5 ملین ڈالر ہرجانے کا فیصلہ برقرار
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے نیویارک کی جیوری کے اُس فیصلے کو برقرار رکھا ہے، جس میں ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول سے جنسی زیادتی اور جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
3 رکنی اپیل بینچ نے جمعرات کو اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ضلعی عدالت نے مقدمے کے دوران کسی قانونی غلطی کا ارتکاب کیا یا اُن کے حقوق متاثر ہوئے۔
یہ مقدمہ 1996 کے اس واقعے پر مبنی تھا، جس میں ای جین کیرول نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے نیویارک کے برگڈورف گڈمین ڈیپارٹمنٹ اسٹور میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
اس الزام کے بعد 2023 میں مین ہٹن کی ایک جیوری نے متفقہ طور پر فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ نے کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور اس کے بدلے میں 5 ملین ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
عدالت نے 2005 کی وہ مشہور ’ Access Hollywood ‘ ویڈیو بھی بطور شہادت قبول کی تھی، جس میں ٹرمپ خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک کی باتیں کرتے سنائی دیے۔
علاوہ ازیں 2 دیگر خواتین کی گواہی کو بھی بطور ثبوت شامل کیا گیا، جنہوں نے ماضی میں ٹرمپ پر جنسی حملوں کے الزامات لگائے تھے۔
ٹرمپ نے ان شواہد کی بنیاد پر اپیل کی تھی کہ ان کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں، تاہم اپیل کورٹ نے مؤقف مسترد کر دیا۔
کیرول نے عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اظہارِ مسرت کرتے ہوئے لکھاکہ الوداع، بوڑھے آدمی! اپیل کورٹ نے تمہیں خیر باد کہہ دیا‘۔
پس منظر:
ای جین کیرول نے 2019 میں پہلی بار ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا، جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں جانتے تک نہیں اور یہ سب کچھ محض کتاب بیچنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں جنوری 2024 میں ایک اور جیوری نے ٹرمپ کو کیرول کے خلاف ہتک آمیز بیانات دینے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 83.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنسی زیادتی اپیل کو
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔