ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست سے امریکا کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 35 فیصد محصولات نافذ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کی پیروی کا الزام ، امریکا نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات ختم کر دیے
یہ اضافہ موجودہ 25 فیصد کی شرح سے 10 پوائنٹس بڑھ کر کیا جا رہا ہے، جبکہ USMCA معاہدے (کینیڈا-میکسیکو-امریکا) کے تحت بعض اشیاء کو استثنیٰ ملے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ سخت تجارتی اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ کینیڈا سے امریکا میں غیر قانونی طور پر فینٹنیل نامی خطرناک منشیات کی اسمگلنگ ہو رہی ہے، اور دوسرا یہ کہ امریکا کو کینیڈا کے ساتھ تجارت میں مالی نقصان ہو رہا ہے۔
اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا فینٹنیل کی اسمگلنگ روکنے میں تعاون کرے تو محصولات میں کمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ دیگر ممالک کو بھی 15-20 فیصد عارضی محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر وہ امریکا سے تجارت میں عدم تعاون کریں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے؟
اس فیصلے کے بعد یورو، کینیڈین ڈالر اور یوآن کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں مغربی حصص کی قیمتیں کم ہوئیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مزدوروں اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے۔
ٹرمپ نے جیسا کہا ہے کہ یہ اقدام نیا نہیں بلکہ عالمی تجارتی پالیسیاں از سر نو ترتیب دینے کی کوشش ہے ۔ تاہم ایشیا اور یورپ کی مارکیٹیں محتاط انداز میں حرکت کر رہی ہیں، جبکہ اگلے چند ہفتے میں امریکی کمپنیوں کی تجارتی کارکردگی اور عالمی معاشی اثرات واضح ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ٹرمپ ٹیرف فینٹنیل کینیڈا منشیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ٹرمپ ٹیرف فینٹنیل کینیڈا منشیات
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔