WE News:
2026-07-24@05:27:01 GMT

ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

ٹرمپ کا کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست سے امریکا کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 35 فیصد محصولات نافذ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:یورپی یونین کی پیروی کا الزام ، امریکا نے کینیڈا سے تجارتی مذاکرات ختم کر دیے

یہ اضافہ موجودہ 25 فیصد کی شرح سے 10 پوائنٹس بڑھ کر کیا جا رہا ہے، جبکہ USMCA معاہدے (کینیڈا-میکسیکو-امریکا) کے تحت بعض اشیاء کو استثنیٰ ملے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ سخت تجارتی اقدام اس لیے اٹھایا گیا ہے کیونکہ کینیڈا سے امریکا میں غیر قانونی طور پر فینٹنیل نامی خطرناک منشیات کی اسمگلنگ ہو رہی ہے، اور دوسرا یہ کہ امریکا کو کینیڈا کے ساتھ تجارت میں مالی نقصان ہو رہا ہے۔

اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا فینٹنیل کی اسمگلنگ روکنے میں تعاون کرے تو محصولات میں کمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ دیگر ممالک کو بھی 15-20 فیصد عارضی محصولات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر وہ امریکا سے تجارت میں عدم تعاون کریں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا کینیڈا امریکا کی 51ویں ریاست بن سکتا ہے؟

اس فیصلے کے بعد یورو، کینیڈین ڈالر اور یوآن کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں مغربی حصص کی قیمتیں کم ہوئیں۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مزدوروں اور صنعتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں گے۔

ٹرمپ نے جیسا کہا ہے کہ یہ اقدام نیا نہیں بلکہ عالمی تجارتی پالیسیاں از سر نو ترتیب دینے کی کوشش ہے ۔ تاہم ایشیا اور یورپ کی مارکیٹیں محتاط انداز میں حرکت کر رہی ہیں، جبکہ اگلے چند ہفتے میں امریکی کمپنیوں کی تجارتی کارکردگی اور عالمی معاشی اثرات واضح ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ٹرمپ ٹیرف فینٹنیل کینیڈا منشیات.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ٹرمپ ٹیرف فینٹنیل کینیڈا منشیات

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی