ٹرمپ انتظامیہ کا فلسطین حامی فرانسسکا البانیس پر پابندیوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن:ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیس پر پابندیاں عائد کر رہی ہے، جو غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی بڑی ناقد ہیں۔امریکا کے سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے اس اقدام کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی فرانسسکا البانیس کے لیے حمایت سے جوڑا ہے۔ واضح رہے کہ آئی سی سی کے کچھ ججوں پر امریکہ نے پہلے ہی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ اقدام فرانسسکا البانیس کے امریکی یا اسرائیلی شہریوں کے خلاف مقدمہ چلانے کی کوششوں میں براہ راست آئی سی سی کے ساتھ شامل ہونے کی وجہ سے اٹھایا گیا۔انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ فرانسسکا البانیس اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات سر انجام دینے کے لیے نا اہل ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کے بعد البانیس پر امریکاکا سفر کرنے پر پابندی لگ سکتی ہے جبکہ ملک میں موجود ان کے تمام اثاثوں کو بھی منجمد کیا جا سکتا ہے۔
ایکس پر اپنے پیغام میں فرانسسکا البانیس نے ان پابندیوں پر براہ راست تو تبصرہ نہیں کیا تاہم انھوں نے لکھا کہ میں اب بھی بہت مضبوطی اور یقین کے ساتھ انصاف کے لیے کھڑی ہوں، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کیا۔بی بی سی نے اس بارے میں تبصرے کے لیے فرانسسکا البانیس سے رابطہ کیا لیکن انھوں نے انکار کر دیا تاہم الجزیرہ نے ان کے ایک بیان کا حوالہ دیا ہے، جس میں انھوں نے ان پابندیوں کو ’مافیا طرز کی دھمکیوں کی تکنیک‘ کے طور پر بیان کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فرانسسکا البانیس انھوں نے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔