بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر کی خاتون مسافر کے ساتھ اجتماعی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
پنجاب کے ضلع پاک پتن کے علاقے عارف والا میں بس ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے مبینہ طور پر خاتون مسافر کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
ایکسسپریس نیوز کے مطابق بورے والا کی رہائشی خاتون گزشتہ روز نجی کمپنی کی بس سے عارف والا پہنچی تو اڈے پر اُسے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔
خاتون کے مطابق بس اڈے پر پہنچی تو تمام مسافر اتر گئے تھے اور میں اپنے سامان کے انتظار میں تھی اسی دوران ڈرائیور اور کنڈیکٹر قریب میں کمرے میں لے گئے جہاں انہوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
خاتون مسافر سے بس عملہ کی مُبینہ زی اد تی#ExpressNews #BreakingNews #Arifwala #Bus #Woman #SadNews #Pakpattan #DPO #Police #LatestNews #Pakistan pic.
خاتون کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی شب پیش آیا، پولیس نے متاثرہ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی جبکہ مزید قانونی کارروائی کیلیے خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ بھی کروایا ہے۔
ڈی پی او پاکپتن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے مبینہ زیادتی میں ملوث ڈرائیور اورکنڈیکٹر کی گرفتاری کا حکم دیا جبکہ ایس ایس پی سے رپورٹ بھی طلب کرلیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈرائیور اور
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔