سندھ اسمبلی میں غیرت کے نام پر دہرے قتل کے خلاف متفقہ قرارداد منظور، انصاف کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
سندھ اسمبلی نے بلوچستان میں ہونے والے غیرت کے نام پر دہرے قتل کے افسوسناک واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس وحشیانہ فعل میں ملوث عناصر کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں قتل خاتون کے والدین کا بیان قرآن و سنت کے خلاف ہے، پاکستان علما کونسل
اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر نوید اینتھونی نے کی۔ تلاوت اور دعا کے بعد وقفہ سوالات میں محکمہ فشریز و لائیو اسٹاک سے متعلق سوالات پر وزیر محمد علی ملکانی نے بتایا کہ کراچی فش ہاربر کی مرمت جاری ہے اور ملاحوں کی فلاح کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں لیاری میں عمارت گرنے کے المناک سانحے پر صوبائی وزیر سعید غنی نے بتایا کہ یہ عمارت غیر قانونی تھی اور واقعے میں 27 افراد جاں بحق ہوئے۔ لواحقین کو مالی امداد دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں 87 خستہ حال عمارتیں خالی کرائی جا چکی ہیں، جبکہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ملوث کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
اجرک والی نمبر پلیٹس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر مکیش کمار چاولا نے کہا کہ یہ تبدیلی سیف سٹی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہر میں جرائم کی روک تھام ہے۔
مزید پڑھیے: بلوچستان، غیرت کے نام پر دوہرا قتل، نامزد ملزم بشیر احمد کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ
اسمبلی اجلاس کے دوران صوبائی وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے جیل افسران کی سروس سے متعلق ترمیمی آرڈیننس اور سپیرا قوانین میں ترامیم پر مشتمل بل پیش کیا، جو منظور کر لیا گیا۔
اس موقعے پر پیپلز پارٹی کی رکن سعدیہ جاوید نے بلوچستان میں ہونے والے غیرت کے نام پر دہرے قتل کے واقعے کے خلاف قرارداد پیش کی جس کی حمایت تنزیلہ قمبرانی (پیپلزپارٹی) اور کرن مسعود (ایم کیو ایم) نے کی۔ دونوں ارکان نے واقعے کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے مجرموں کو کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔
ایوان نے مشترکہ طور پر قرارداد منظور کر لی اور انصاف کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد ازاں اجلا پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں دوہرے قتل کا معاملہ: نامزد سردار شیر باز ساتکزئی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش
یاد رہے کہ کوئٹہ کے نواح میں غیرت کے نام پر ایک مرد اور ایک عورت قتل کردیے گئے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک ہجوم اکٹھے ہوکر ایک عورت اور ایک مرد کو فائرنگ کرکے قتل کر رہا تھا۔ یہ وقوعہ عیدالاضحیٰ سے 3 روز قبل سنجیدی ڈیگاری کے علاقے میں رونما ہوا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان دہرا قتل دہرے قتل پر سندھ کی مذمت سندھ اسمبلی کوئٹہ دہرا قتل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہرا قتل دہرے قتل پر سندھ کی مذمت سندھ اسمبلی کوئٹہ دہرا قتل غیرت کے نام پر دہرے قتل کے خلاف
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔