سندھ میں سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر پوری دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
سینیئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبے میں سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر پوری دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
حیدر آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں واحد صوبہ سندھ ہے جس کے نوجوان لیڈر بلاول نے برسات اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے وزیر اعلی کو ٹاسک دیا، یہ خواتین و مرد کیمپوں میں مقیم تھے کیونکہ ان کے سروں پر چھت نہیں تھی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول نے تین بار وزیر اعلی سندھ کو کہا کہ مجھے ان کے لیے پکے گھر چاہییں، جس کے بعد وزیر اعلی نے گھر بنانے کے لیے ورلڈ بینک اور دیگر اداروں سے بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلا تفریق سروے کیا گیا، پیپلزپارٹی نے سیلاب متاثرین کو مفت میں گھر بناکر دیے، تمام متاثرہ خواتین کے بینک اکاونٹ کھولے گئے اور ترتیب وار پیسے فراہم کیے گئے، سیلاب متاثرین کے لیے گھروں کی تعمیر پوری دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت 21 لاکھ گھر بنائے جارہے ہیں، صرف گھر بناکر نہیں دے رہے، انہیں زمین کے مالکانہ حقوق بھی دے رہے ہیں، مالکانہ حقوق اس گھر کی سب سے بڑی خواتین کو دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو پیپلزپارٹی نے عوام کے لیے کیا وہ کسی نے نہیں کیا، جس طرح شعبہ صحت میں کام کیا، اس کی پورے پاکستان میں مثال نہیں ملتی، اس بار ان لوگوں نے اپنے پختہ گھروں میں بارش کے مزے لیے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ہم ان گھروں کو مفت سولر سسٹم دیں گے، پہلے مرحلے میں دو لاکھ گھروں کو دیں گے، ان لوگوں کو میٹھا صاف پانی فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔