بیجنگ: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا بین الاقوامی فورم سے خطاب، پاکستان چین تعلقات اور ثقافتی تعاون پر زور
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
بیجنگ(نیوز ڈیسک)بیجنگ میں منعقدہ بین الاقوامی فورم “سولائزیشن ایکسچینج اینڈ میوچل لرننگ” سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے تاریخی تعلقات، مشترکہ تہذیبی ورثے اور ڈیجیٹل دور میں نئی جہتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان صرف جغرافیائی ہمسائے نہیں بلکہ ہمارے درمیان صدیوں پر محیط تہذیبی اور ثقافتی رشتہ موجود ہے۔ “ہم چین کو ہمیشہ اپنا آئرن برادر کہتے ہیں، یہ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ہماری باہمی وابستگی اور اعتماد کی علامت ہے۔”
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ شاہراہِ ریشم اب سی پیک کی صورت اختیار کر چکی ہے جو محض ایک تجارتی راستہ نہیں بلکہ تہذیبوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔ پاکستان گندھارا، موہنجو دڑو اور ٹیکسلا جیسی عظیم تہذیبوں کا وارث ہے اور بدھ مت کی ہزاروں سال پرانی علامات آج بھی ہمارے ملک میں محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آثار محض ماضی کا حصہ نہیں بلکہ ہماری آج کی شناخت، فنون، شاعری، دستکاری اور نوجوان نسل کی تخلیقی سوچ میں بھی زندہ ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے اپنے ثقافتی ورثے کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کر دیا ہے تاکہ نئی نسل کو اپنی تہذیبی شناخت کے ساتھ جوڑا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیا تعاون کو نئی سطح پر لے جایا گیا ہے اور چائنہ میڈیا گروپ کے اشتراک سے “Hi China, Hi Pakistan” جیسے پروگرامز نوجوانوں کو روشنی، شعور اور بااختیاری فراہم کر رہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اب دونوں ممالک مشترکہ ڈاکیومنٹریز، فلم سازی اور ڈیجیٹل میڈیا میں شراکت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا اگلا ہدف ڈیجیٹل انفلوئنسرز کا تبادلہ ہے تاکہ دونوں ممالک کے نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی ثقافت، تاریخ اور سیاحت کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا ہماری نئی راہداری ہے جو صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ دوستی، امن اور ترقی کو آپس میں جوڑتی ہے۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ کے وژن ’’گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو‘‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم اس وژن کی عملی تصویر بن کر اس فورم میں شریک ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے بتایا کہ وہ پہلی بار 2009 میں چین آئے تھے اور آج پالیسی ساز کی حیثیت سے یہاں موجود ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ عوامی تبادلے کیسے پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا مستقبل چاہتا ہے جہاں پانی کو ہتھیار نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بنایا جائے۔ انہوں نے فورم کے کامیاب انعقاد، چین کے میزبانی اور صدر شی جن پنگ کے وژن کا شکریہ ادا کیا۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عطاء اللہ تارڑ نے انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔