پنجاب کے فوڈ پراسیسنگ کے شعبے کی وسیع صلاحیت پر روشنی ڈالی
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (کامرس ڈیسک ) پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے بدھ کے روز سیکرٹریٹ میں منعقدہ تھنک ٹینک سیشن کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت دوطرفہ اقتصادی تعاون اور برآمدات میں اضافے کیلئے پنجاب کے فوڈ پراسیسنگ کے شعبے کی وسیع صلاحیت پر روشنی ڈالی۔پی سی جے سی سی آئی کے صدر نذیر حسین نے پنجاب کی بے مثال زرعی صلاحیت پر زور دیا جس نے قدر میں اضافے اور زرمبادلہ کی کمائی کو مضبوط بنانے کے لیے چینی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کی دعوت دی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی کل فصلوں کا 57 فیصد حصہ یعنی17 ملین ہیکٹر سے زیادہ پر کاشت کرتا ہے جو ملک کی 80 فیصد گندم ،95 فیصد لیموں،82 فیصد امرود اور 66 فیصد آم کی کاشت کرتا ہے،یہ صوبہ قومی جی ڈی پی میں تقریبا 19 فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پنجاب کی فوڈ پراسیسنگ انڈسٹری ایک تبدیلی کی توسیع کے دہانے پر کھڑی ہے ،اس کے بڑے پیمانے پر خام زرعی پیداوار، اسٹریٹجک مقام، سی پی ای سی کے بنیادی ڈھانچے کی رفتار، چینی ٹیکنالوجی اور سرمائے تک رسائی، ٹارگٹڈ پالیسی سپورٹ اور بین الاقوامی سرٹیفیکیشن معیارات کے ساتھ یہ شعبہ روزگار کی تخلیق، دیہی خوشحالی اور برآمدی تنوع کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔