50 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی ٹرانزیکشن کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(کامرس رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے مالی سال 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 69 مرجرز اور ایکوزیشنز کی ٹرانزیکشنز مںظور کیں، جن میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پاکستانی کمپنیوں میں انضمام اور شراکت داری کی درخواستیں بھی شامل تھیں۔ غیر ملکی کمپنیوں کی ان ٹرانزیکشن کے نتیجے میں تقریباً 50 ملین ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی۔ یہ ٹرانزیکشنز خوراک، مالیات، لاجسٹکس، ایرو اسپیس، میڈیا اور ای کامرس کے شعبوں میں ہوئیں۔اہم غیر ملکی ٹرانزیکشنز جن کے ذریعے ڈائریکٹ انوسٹمنٹ آئی، ،ان میں نیشنل لاجسٹکس سیل ( این ایل سی) اور ڈی پی ورلڈ لاجسٹکس دبئی کے مابین مشترکہ منصوبہ شامل ہے، جو کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کے ذریعے ممکن ہوا۔اسی طرح ای کامرس کے شعبے میں بازار ٹیکنالوجیز نے ویمل سول کو ایکوائر کیا۔ زرعی شعبے میں اٹلی کی کمپنی میسرز یوریکوم نے فاطمہ یوریکوم رائس ملز کے 50 فیصد حصص حاصل کیے۔ میڈیا کے شعبے میں برکلے اسکوائر ہولڈنگ نے اوگلیوی اینڈ میتھر، مائنڈ شیئر اور سوہو اسکوائر پاکستان کے 50 فیصد حصص حاصل کیے۔ مزید برآں، سعودی کمپنی واکعب ڈیٹا نے ڈرون ٹیکنالوجی کمپنی ووٹ ٹیک کے 80 فیصد حصص خریدے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے علاوہ، کمپٹیشن کمیشن نے مقامی سطح پر 64 مرجر ٹرانزیکشنز کی منظوری دی، جن میں صنعتی و پیداواری شعبہ میں پچیس (25)، توانائی میں چودہ (14)، خدمات میں تیرہ (13)، فنانس میں گیارہ (11)، ریٹیل و صارفین کی اشیاء میں پانچ (5)، اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے ایک ٹرانزیکشن کی منمظوری دی گئی۔اہم مقامی سودوں میں یونائیٹیڈ عرب امارت کی وافی انرجی کے ذریعیعصیاد ہولڈنگ کی شیل پاکستان میں 77.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصد حصص غیر ملکی کے شعبے
پڑھیں:
راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔
وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شزا فاطمہ وفاقی وزیر