سپیکر پنجاب اسمبلی کا 26 معطل ارکان کو ذاتی سماعت کا موقع دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ںے 26 معطل ارکان اسمبلی کو کل بروز جمعہ ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ذاتی سماعت کا موقع آرٹیکل 10 اے تحت فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ اسپیکر آئین کے مطابق 30 روز میں نااہلی ریفرنس پر فیصلہ کرنے کے پابند ہیں۔اسپیکر ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے ریفرنسز میں شامل تمام ارکان کو آئینی دائرہ کار میں مکمل دفاع کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ یاد رہے 27 جون کو اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ اور توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد اسپیکر نے اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنےکا اعلان کیا تھا۔
چینی کی درآمد پر ٹیکسز میں چھوٹ ،18 فیصد سے کم کرکے 0.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔