36 ارب روپے کے مجوزہ منی بجٹ میں مرغی کے ایک دن کے چوزے پر دس روپے ڈیوٹی لگانے کی تجویز بھی دی گئی جب کہ حالیہ بجٹ میں 462 ارب روپے کے حکومت نے جو نئے ٹیکس لگائے ہیں ان کی وصولی کو ممکن بنایا جاسکے۔ میاں شہباز شریف کی مسلم لیگی حکومت کے قیام کے بعد یہ چوتھا بجٹ ہے۔
اپریل 2022 میں پی ٹی آئی حکومت میں ان کے تین وزرائے خزانہ نے جو بجٹ پیش کیے تھے ان پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور حکومت مخالف پارٹیاں تنقید کیا کرتی تھیں جس کے بعد مفتاح اسمٰعیل نے بھی بجٹ پیش کیا تھا ،پھر اسحاق ڈار بڑے دعوؤں سے آ کر وزیر خزانہ بنے اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا کر اور آئی ایم ایف کو ناراض کرکے چلتے بنے ، نگران حکومت نے انھی کے بجٹ پر عمل کیا تھا۔
موجودہ وزیر خزانہ بڑی توقعات سے لائے گئے ہیں جن کا یہ دوسرا بجٹ ہے لیکن انھیں بھی عوام سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ، وزیروں اور ججز کے بعد نئے بجٹ میں پارلیمنٹ کے چار عہدیدار یاد آئے کہ ان بے چاروں کی تو دس سال سے تنخواہیں اور مراعات ہی نہیں بڑھیں اور ان چاروں کا تعلق صدر مملکت اور وزیر اعظم کی پارٹی سے ہے اس لیے 78 سالوں سے نظرانداز رکھے گئے ملک کے عوام کے بجائے پارلیمنٹ کے ان چاروں اہم عہدیداروں کی تنخواہیں یکدم کئی گنا بڑھا دیں اور ان چاروں نے بھی حکومت کی اس فیاضی کو قبول کر لیا۔
وزیراعظم میاں شہباز شریف ملک کے لیے قرضے اور امداد کے لیے دنیا کے دورے کرتے ہیں، ملکی معیشت کی بدتر حالت کے باوجود وفاقی حکومت نے اپنی سخاوت کا ریکارڈ قائم کردیا اور حکومت نے ثابت کر دیا کہ اسے عام عوام کا نہیں خاص لوگوں کا ہی خیال رہتا ہے اور غریب عوام کو کوئی نہیں پوچھتا، کیونکہ ملک ان بڑوں نے چلانا اور عوام کے ٹیکسوں سے عوام پر حکومت کرنی ہے اور ہر حکومت سوتیلی ماؤں جیسی ہوتی ہے حقیقی ماؤں جیسی نہیں۔
دنیا بھر میں حکومتیں عوام کے ٹیکسوں سے چلتی ہیں اور سرکاری اخراجات کے بعد جو رقم بچتی ہے وہ عوام کی تعلیم و صحت، فلاح و بہبود اور ملک میں ترقیاتی کاموں کے لیے بجٹ میں مختص کی جاتی ہے اور سرکاری اخراجات غیر ترقیاتی کہلاتے ہیں مگر پاکستان میں ہوتا یہ رہا ہے کہ ہر بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات مسلسل بڑھائے جاتے ہیں اور ترقیاتی اخراجات کم ہوتے جا رہے ہیں جو اب کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔
ہر حکومت میں عوام کی سہولیات و فلاح و بہبود کے نام پر ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں اور ٹیکس پر ٹیکس لگا کر بھی حکومتی اخراجات ہی بہ مشکل پورے ہوتے ہیں اور ترقیاتی فنڈز کم ہوتے جاتے ہیں اور جس پارٹی کی حکومت ہوتی ہے وہ پورے ملک کے بجائے اپنے ووٹ بینک والیعلاقوں کو زیادہ فنڈز اور اہمیت دیتی ہے جس کے بعد ملک اب تین پارٹیوں میں 2007 کے بعد سے واضح طور پر تقسیم نظر آتا ہے جب کہ جنرل پرویز کے دور میں ایسا نہیں تھا اور تمام صوبوں کا برابر خیال رکھا جاتا تھا جس کے بعد سندھ پیپلز پارٹی، پنجاب مسلم لیگ (ن) اور کے پی کے پی ٹی آئی کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور 2008 کے الیکشن میں 2 صوبوں میں مسلم لیگ (ن) اور پی پی کی جب کہ کے پی میں مخلوط حکومت بنی تھی۔
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی سب سے زیادہ عرصہ تک حکومت چلی آ رہی ہے۔ سندھ میں چوتھی حکومت پی پی اور کے پی میں تیسری حکومت پی ٹی آئی کی مسلسل چلی آ رہی ہے مگرترقیاتی کاموں کے حوالے سے دیکھا جائے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ واضح تبدیلی صرف پنجاب میں ہی نظر آتی ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا سترہواں سال اور چوتھی حکومت ہے جہاں عوام کی حالت میں کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں آئی ہے مگر دیکھنے میں آتا ہے کہ حکومت میں شامل لوگ مالی اعتبار سے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں۔
سندھ میں پی پی اپنی چوتھی حکومت کو پی پی کی عوام میں مقبولیت قرار دیتی ہے تو سندھ حکومت کو عوام کے لیے اچھی ماں ثابت ہونا چاہیے اور سندھ میں خوشحالی اور ترقی کا ریکارڈ قائم ہونا چاہیے تھا مگر ریکارڈ پنجاب میں مریم نواز کی پہلی سوا سال کی حکومت قائم کر رہی ہے جہاں خاتون وزیر اعلیٰ ہیں مگر کسی حد تک ان کی پہلی حکومت ماؤں جیسا کردار ادا کر رہی ہے اور وہاں جنوبی پنجاب کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے جہاں زیادہ عوامی نمایندگی پیپلز پارٹی کی ہے مگر لاہور میں بیٹھی وزیر اعلیٰ جنوبی پنجاب کو بھی اہمیت دینے پر مجبور ہیں اور وہاں بھی بہتری جاری ہے۔ہونا بھی یہی چاہیے۔
سندھ کا وزیر اعلیٰ کراچی میں رہتا ہے کیونکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہے۔ حالانکہ ضلع جامشورو سے منتخب ہوئے ہیں اور ان کی ترجیح بھی سندھ کے دیہی علاقے ہیں ۔کراچی میں بھی پیپلزپارٹی کی بلدیاتی حکومت بڑے عرصے کے بعد قائم ہوئی ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ شہری سندھ اور دیہی سندھ دونوں جگہ مسائل میں کمی آنے کی رفتار زیادہ تیز نہیں ہے۔ سندھ حکومت ترقی و خوشحالی کے دعوے بہت کرتی ہے۔ لیکن یہ دعوے سو فیصد درست نہیں ہیں۔ کراچی والے مسلسل شکوہ کناں ہیںکیونکہ ان کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔کراچی اور حیدر آباد شہر کو بڑے عرصے سے نظرانداز کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ دونوں شہر سندھ کی شان ہیں۔اگر یہ شہر ترقی یافتہ ہوں گے تو پورا سندھ ترقی یافتہ ہو جائے گا۔
کے پی حکومت کی ترجیحات میں عوام کی بھلائی شامل نہیں جہاں کا وزیر اعلیٰ صرف اپنی حکومت برقرار رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔ بلوچستان کے عوام کے ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا سلوک ماؤں جیسا نہیں بلکہ ان کی ترجیح غریب عوام کے بجائے سرداروں کو نوازنا ہے اور ہر علاقے کا سردار عوام کو کبھی اہمیت نہیں دیتا جہاں ماں ہے نہیں سردار ہی باپ ہوتا ہے۔ وفاق میں کسی پارٹی کی حکومت ملک کے عوام کو ماں جیسی اہمیت نہیں دی صرف دعوے کیے اور سلوک سوتیلی ماؤں سے بھی بدتر کیا جس نے غریب عوام کو صرف لوریاں دیں سہانے خواب دکھائے اور ہر بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی جھکی ہوئی کمر پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی وزیر اعلی کی حکومت کے بجائے مسلم لیگ پارٹی کی عوام کے عوام کی عوام کو ہیں اور کے بعد ملک کے ہے اور رہی ہے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔