Express News:
2026-06-03@07:51:10 GMT

عوام دشمن فیصلے

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

نئے بجٹ کے نفاذ میں تین دن باقی تھے کہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صنعتی و کمرشل سوئی گیس کی قیمت دس فی صد مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ سامنے آیا جب کہ گھریلو صارفین کے فکسڈ چارجز میں چار سو سے ایک ہزار کا اضافہ بھی کر دیا گیا اور HM31 سے زیادہ کھپت کے چارجز بھی بڑھا کر تین ہزار روپے ماہانہ کر دیے گئے اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے دولت مند ارکان نے یہ نہیں سوچا کہ 463 ارب کے نئے ٹیکسوں میں اضافے کے بعد پہلے سے شدید مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام پر ان حکومتی فیصلوں کا کیا اثر ہوگا اور ان کی پہلے سے ہی مشکل میں شکار زندگی مہنگائی بڑھنے سے مزید اجیرن ہو جائے گی۔

ملک کے سب سے بڑے کراچی چیمبر نے نئے بجٹ میں سیلز ٹیکس 37اے اے کے خلاف شہر میں احتجاجی بینرز آویزاں کردیے اور اس حکومتی اقدامات پر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کردیا اورکہا کہ یہ صرف آغاز ہے اگر ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو کراچی سمیت ملک بھر میں ہڑتال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچے گا۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینے سے کاروباری طبقے کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کی اکثریت رجسٹر نہیں ہے اور عدالت کے بجائے ایف بی آر افسروں کو دیے جانے والے اختیارات نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی (ن) لیگی حکومت کے دوسرے بجٹ میں بھی عوام کو حسب سابق ریلیف دینے کے بجائے 463 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا تحفہ دینے کے بعد بھی حکومت کا دل نہیں بھرا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کے ذریعے گیس مہنگی کرائی گئی جس سے مزید مہنگائی بڑھے گی جس کا اثر صنعتکاروں اور کمرشل اداروں پر نہیں بلکہ عوام پر ہی پڑے گا۔

نائب وزیر اعظم اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نیاب نئے بجٹ کے بعد کہا ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھیں گے۔لگتا ہے کہ حکومت کی تو یہ پالیسی ہے کہ پہلے سے ہی جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان پر ہی مزید ٹیکس بڑھا کر آمدنی بڑھائی جائے اور ان سرکاری عہدیداروں کو نوازا جائے جو نہ مزید نوازے جانے کے حقدار ہیں نہ غریب ہیں اور جن لوگوں کو نوازے جانے کی اشد ضرورت ہے ان پر تو حکومت کی توجہ ہی نہیں ہے۔

حکومت نئے نئے ٹیکسوں سیاپنی آمدنی بڑھا رہی ہے تو حکومت اس بڑھی آمدنی اور غیر ملکی قرضوں کی رقم سے ارکان اسمبلی، وزیروں، مشیروں، ججز و دیگر کی تنخواہ پہلے ہی بڑھا چکی ہے اور عوام محروم رکھے گئے۔نئے بجٹ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے 285 اشیا پر دوبارہ ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے یہ حکومت نے یوٹرن لیا ہے اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کی رفتار بھی سست کر دی ہے جب کہ پہلے تقریباً 285 درآمدی مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کے مکمل خاتمے یا کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا جو بجٹ منظوری کے بعد فوری طور واپس لے لیا گیا ہے اور حکمران عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔

یہ حکومت کی عوام دشمن پالیسی ہے کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے واپس لے لو جب کہ حکومت نے پہلے جن خاص لوگوں کی اور حال ہی میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 50 فی صد تک کا جو اضافہ کیا تھا جس کی رپورٹ وزیر اعظم نے اعتراضات پر طلب کی تھی وہ رپورٹ اب کہیں نظر نہیں آئی، صرف وزیر خزانہ کا حمایتی بیان سامنے آیا تھا مگر بعد میں پہلے والوں کی طرح ان عہدیداران پارلیمنٹ کی تنخواہ میں کمی تک کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔اپنی سخت شرائط پر قرض دینے والے آئی ایم ایف کو ارکان و عہدیداران پارلیمنٹ، وزیروں، مشیروں، معاونین خصوصی، ججز اور دیگر بڑوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے پر اعتراض نہیں ہے تو حکومت یہ فیصلے کیوں واپس لے۔

حکومت کے مطابق تو آئی ایم ایف عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی فیصلوں کی اجازت نہیں دیتا جب کہ حکومت اس کو قرضوں کی واپسی عوام کا خون نچوڑ کر مہنگائی مزید بڑھا کر کرتی ہے مگر صرف وہ حکومتی فیصلے واپس ہوتے ہیں جن سے عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہو۔بڑے اور نوازے ہوئے افراد کی مراعات بڑھانے والا کوئی ادارہ ملک میں ہے نہیں اور آئی ایم ایف بھی حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے فیصلوں پر ہی اعتراض کرتا ہے۔

اس لیے حکومت من مانیوں اور اپنوں کو نوازنے میں بڑی فراخ دل ہے۔عالمی سطح پر پٹرول کے نرخ کم ہوں تو حکومت پٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد لیوی بڑھا کر عوام کو سستا پٹرول نہیں دیتی۔ حکومت جب چاہے بجلی وگیس مزید مہنگی کردے یا پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نئے ٹیکس لگا دے کوئی اسے نہیں روکتا۔ کوئی اگر قیمتیں بڑھانے کے حکومت دشمن فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج کرے تو عدلیہ بھی حکومت کو نہیں روکتی بلکہ حکومت کا اسے انتظامی فیصلہ قرار دے کر عوامی درخواستیں سنتی ہی نہیں اور عوام کے پاس داد رسی کا کوئی ادارہ ہی نہ ہو تو حکومت من مانے حکومتی فیصلوں میں مکمل آزاد ہو جاتی ہے۔ حکومتی فیصلے ہر قسم کی گرفت سے مکمل آزاد ہیں۔

ارکان پارلیمنٹ و اسمبلیوں کا عوام سے تعلق الیکشن کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ الیکشن سے قبل نگران حکومتیں مہنگائی مزید بڑھا کر عوام کی کمر مزید توڑ دیتی ہیں جس کی وجہ سے عوام بھول جاتے ہیں کہ پانچ سال پہلے والی حکومتیں ظالم تھیں یا نگران حکومتیں، اس لیے وہ پھر ان ہی کو ووٹ دیتے ہیں جنھوں نے اپنے وعدے بھلا کر عوام دشمن فیصلے کیے تھے اور دوبارہ آ کر بھی انھوں نے عوام کو ریلیف نہیں دینا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ حکومت تو حکومت نئے ٹیکس بڑھا کر پہلے سے عوام کو دینے کے کر عوام عوام پر ہیں اور ہے اور کے بعد

پڑھیں:

بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر

اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم