Express News:
2026-07-24@09:34:25 GMT

عوام دشمن فیصلے

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

نئے بجٹ کے نفاذ میں تین دن باقی تھے کہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں صنعتی و کمرشل سوئی گیس کی قیمت دس فی صد مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ سامنے آیا جب کہ گھریلو صارفین کے فکسڈ چارجز میں چار سو سے ایک ہزار کا اضافہ بھی کر دیا گیا اور HM31 سے زیادہ کھپت کے چارجز بھی بڑھا کر تین ہزار روپے ماہانہ کر دیے گئے اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے دولت مند ارکان نے یہ نہیں سوچا کہ 463 ارب کے نئے ٹیکسوں میں اضافے کے بعد پہلے سے شدید مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام پر ان حکومتی فیصلوں کا کیا اثر ہوگا اور ان کی پہلے سے ہی مشکل میں شکار زندگی مہنگائی بڑھنے سے مزید اجیرن ہو جائے گی۔

ملک کے سب سے بڑے کراچی چیمبر نے نئے بجٹ میں سیلز ٹیکس 37اے اے کے خلاف شہر میں احتجاجی بینرز آویزاں کردیے اور اس حکومتی اقدامات پر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کردیا اورکہا کہ یہ صرف آغاز ہے اگر ہمارے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا تو کراچی سمیت ملک بھر میں ہڑتال کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہیں بچے گا۔ ایف بی آر کے سابق چیئرمین شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینے سے کاروباری طبقے کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں ڈسٹری بیوٹرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز کی اکثریت رجسٹر نہیں ہے اور عدالت کے بجائے ایف بی آر افسروں کو دیے جانے والے اختیارات نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی (ن) لیگی حکومت کے دوسرے بجٹ میں بھی عوام کو حسب سابق ریلیف دینے کے بجائے 463 ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا تحفہ دینے کے بعد بھی حکومت کا دل نہیں بھرا تھا کہ کابینہ کی اقتصادی کمیٹی کے ذریعے گیس مہنگی کرائی گئی جس سے مزید مہنگائی بڑھے گی جس کا اثر صنعتکاروں اور کمرشل اداروں پر نہیں بلکہ عوام پر ہی پڑے گا۔

نائب وزیر اعظم اور سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نیاب نئے بجٹ کے بعد کہا ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھیں گے۔لگتا ہے کہ حکومت کی تو یہ پالیسی ہے کہ پہلے سے ہی جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں ان پر ہی مزید ٹیکس بڑھا کر آمدنی بڑھائی جائے اور ان سرکاری عہدیداروں کو نوازا جائے جو نہ مزید نوازے جانے کے حقدار ہیں نہ غریب ہیں اور جن لوگوں کو نوازے جانے کی اشد ضرورت ہے ان پر تو حکومت کی توجہ ہی نہیں ہے۔

حکومت نئے نئے ٹیکسوں سیاپنی آمدنی بڑھا رہی ہے تو حکومت اس بڑھی آمدنی اور غیر ملکی قرضوں کی رقم سے ارکان اسمبلی، وزیروں، مشیروں، ججز و دیگر کی تنخواہ پہلے ہی بڑھا چکی ہے اور عوام محروم رکھے گئے۔نئے بجٹ کی منظوری کے بعد وفاقی حکومت نے 285 اشیا پر دوبارہ ڈیوٹیز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے یہ حکومت نے یوٹرن لیا ہے اور ریگولیٹری ڈیوٹیز میں کمی کی رفتار بھی سست کر دی ہے جب کہ پہلے تقریباً 285 درآمدی مصنوعات پر ریگولیٹری ڈیوٹیز کے مکمل خاتمے یا کمی کا فیصلہ کیا گیا تھا جو بجٹ منظوری کے بعد فوری طور واپس لے لیا گیا ہے اور حکمران عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی بات کر رہے ہیں۔

یہ حکومت کی عوام دشمن پالیسی ہے کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے واپس لے لو جب کہ حکومت نے پہلے جن خاص لوگوں کی اور حال ہی میں اسپیکر و ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں 50 فی صد تک کا جو اضافہ کیا تھا جس کی رپورٹ وزیر اعظم نے اعتراضات پر طلب کی تھی وہ رپورٹ اب کہیں نظر نہیں آئی، صرف وزیر خزانہ کا حمایتی بیان سامنے آیا تھا مگر بعد میں پہلے والوں کی طرح ان عہدیداران پارلیمنٹ کی تنخواہ میں کمی تک کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔اپنی سخت شرائط پر قرض دینے والے آئی ایم ایف کو ارکان و عہدیداران پارلیمنٹ، وزیروں، مشیروں، معاونین خصوصی، ججز اور دیگر بڑوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے پر اعتراض نہیں ہے تو حکومت یہ فیصلے کیوں واپس لے۔

حکومت کے مطابق تو آئی ایم ایف عوام کو ریلیف دینے کے حکومتی فیصلوں کی اجازت نہیں دیتا جب کہ حکومت اس کو قرضوں کی واپسی عوام کا خون نچوڑ کر مہنگائی مزید بڑھا کر کرتی ہے مگر صرف وہ حکومتی فیصلے واپس ہوتے ہیں جن سے عوام کو کچھ ریلیف ملنے کی امید ہو۔بڑے اور نوازے ہوئے افراد کی مراعات بڑھانے والا کوئی ادارہ ملک میں ہے نہیں اور آئی ایم ایف بھی حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے فیصلوں پر ہی اعتراض کرتا ہے۔

اس لیے حکومت من مانیوں اور اپنوں کو نوازنے میں بڑی فراخ دل ہے۔عالمی سطح پر پٹرول کے نرخ کم ہوں تو حکومت پٹرولیم مصنوعات پر پہلے سے عائد لیوی بڑھا کر عوام کو سستا پٹرول نہیں دیتی۔ حکومت جب چاہے بجلی وگیس مزید مہنگی کردے یا پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نئے ٹیکس لگا دے کوئی اسے نہیں روکتا۔ کوئی اگر قیمتیں بڑھانے کے حکومت دشمن فیصلے کو عدلیہ میں چیلنج کرے تو عدلیہ بھی حکومت کو نہیں روکتی بلکہ حکومت کا اسے انتظامی فیصلہ قرار دے کر عوامی درخواستیں سنتی ہی نہیں اور عوام کے پاس داد رسی کا کوئی ادارہ ہی نہ ہو تو حکومت من مانے حکومتی فیصلوں میں مکمل آزاد ہو جاتی ہے۔ حکومتی فیصلے ہر قسم کی گرفت سے مکمل آزاد ہیں۔

ارکان پارلیمنٹ و اسمبلیوں کا عوام سے تعلق الیکشن کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ الیکشن سے قبل نگران حکومتیں مہنگائی مزید بڑھا کر عوام کی کمر مزید توڑ دیتی ہیں جس کی وجہ سے عوام بھول جاتے ہیں کہ پانچ سال پہلے والی حکومتیں ظالم تھیں یا نگران حکومتیں، اس لیے وہ پھر ان ہی کو ووٹ دیتے ہیں جنھوں نے اپنے وعدے بھلا کر عوام دشمن فیصلے کیے تھے اور دوبارہ آ کر بھی انھوں نے عوام کو ریلیف نہیں دینا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ حکومت تو حکومت نئے ٹیکس بڑھا کر پہلے سے عوام کو دینے کے کر عوام عوام پر ہیں اور ہے اور کے بعد

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران