پشاور( نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پورنے کہا کہ سیاسی نعروں کےلئے کام نہیں کرنا، عوام کے لئے کام کرنا ہے۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پورکا کہنا تھا کہ جب اقتدارسنبھالا تو کافی منصوبے التوا کا شکارتھے، زیرالتوا منصوبوں کومکمل کرنا بھی ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نئی سکیمیں شروع کرنے کے بجائے زیرالتوا منصوبوں پر فوکس کیا، ہم نےایک سال میں 144 سکیمیں مکمل کیں، جب حکومت سنبھالی توخزانےمیں 18 دن کی تنخواہ تھی، بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق جو علاقے پیچھے ہیں ان کو اوپر لائیں گے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اس سال ہم اپنےوسائل مزید بڑھا رہے ہیں، وہی منصوبےشروع کروں گا جو ہماری مدت میں ہی مکمل ہوں گے، گزشتہ حکومتوں نے دارالخلافہ پر توجہ نہیں دی، جس پر افسوس ہی کر سکتے ہیں ، گزری باتوں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب صوبہ کی حکومت سنبھالی تو پرانے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچائے، نگران حکومت نے تنخواہوں اور صوبے کو چلانے کے لئے پیسے نہیں چھوڑے تھے، کامیاب وہ ہیں جو غلطی پر معافی مانگے، اپنے اصولوں پر قائم رہنے سے بھی کامیابی ملتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی سکیموں کےلئے 130 ارب دینے ہیں ،441 پرانی سکیموں کو مکمل کرنا ہے ، 50 ارب روپے اے ڈی پی پلس دیں گے، پورے صوبے میں کوئی تحصیل ایسی نہیں ہوگی جس میں ہسپتال نہ بنائے، سیاسی نعروں کےلئے کام نہیں کرنا، عوام کے لئے کام کرنا ہے۔

وزیراعلی خیبر پختونخوا نے کہا کہ لوگ ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ تحصیل بنا دیں، صرف نام کےلئے تحصیلیں نہیں بنانی ، پندرہ سالوں میں 30 سے 35 ارب روپے صرف تحصیل کے نام لگ چکے ہیں، کوہستان ، کولائی پالس میں کوئی کالج و ڈی ایچ کیو نہیں ہے دل کے امراض کےلئے پورے صوبے میں ایک ہسپتال ہے۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ کوئی مریض آتا ہے تو اسے کہتے ہیں تین مہینے بعد آئیں، یہاں ہسپتالوں پر بوجھ ہے، چار ریجنز کے اندر ایک دل کے امراض کا بڑا ہسپتال ہوگا، ڈی آئی خان کے ایک پورے حلقے میں کوئی کالج نہیں ہے، جوتے مارنے چاہیے ایسے رہنماوں کو، ان حلقوں کے نمائندے اب تک کیا کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے بلڈنگ نہیں بلکہ ہسپتال اور سکول چاہیے، میرا مقابلہ ایک دو سے نہیں بلکہ پچھلی چار حکومتوں سے ہے۔
مزید پڑھیں :سنسنی پھیلانے والے یوٹیوبرز کیخلاف ایکشن

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا نے کہا کہ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن