سندھ حکومت کانمبر پلیٹس کے نام پراہل کراچی سے 6 ارب بٹورنے کا منصوبہ،عوام میں اشتعال
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری) بیڈ گورننس کا شاہکار سندھ حکومت کے غیر منطقی فیصلوں کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریزہوگیا۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے کے بعد موٹرسائیکلوں پر اجرک کے نشان والی نئی نمبر پلیٹس کو لازمی قرار دیے جانے کے بعد شہریوں نے موٹرسائیکلوں کا استعمال کم کردیا اور پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کا رش بڑھ گیا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جارہاہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے موٹرسائیکلوں پر جرمانے پر اور نمبر پلیٹس کے حوالے سے دیے گئے احکامات واپس نہیں لیے گئے تو اس سے شہری اشتعال میں آسکتے ہیں اور یہ حکومت کے لیے اہم سیاسی مسئلہ بن کر سامنے آسکتا ہے۔
اس ضمن میں ایک تحریک التوا بھی سندھ اسمبلی میں جمع کرائی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت سندھ کو نئے نمبر پلیٹس لگوانے کا اتنا ہی شوق ہے کہ شہریوں کو مفت میں یہ نمبر پلیٹس دی جائیں۔
گزشتہ 17سال سے سندھ میں برسراقتدار پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کے نمائشی اقدامات نے صوبے کے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اور خاص طور پر کراچی کے شہری حکومت کے ان بچکانہ اقدامات سے بری طرح متاثرہورہے ہیں۔ شہر میں جہاں ایک طرف ایس بی سی اے سے جیسے کرپٹ اداروں کے باعث عمارتوں کی منہدم ہونے کے واقعات ہورہے ہیں وہیں تیز رفتار ڈمپرز اور ٹریلز کی زد میں آکر روزانہ کی بنیاد پر شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھورہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی ہر معاملے کو ایک وقتی ایشو سمجھ کر اس پر مٹی ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان ہیوی ٹریفک کے ڈرائیورز کے خلاف کارروائی کی جاتی اور اس حوالے سے موثر قانون سازی کی جاتی لیکن اس کے برعکس ناعاقبت اندیش پیپلزپارٹی کی حکومت نے موٹرسائیکل سواروں کو ہی اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے۔
کراچی میں موٹرسائیکل سواروں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اتنے بھاری جرمانے عاید کیے جارہے ہیں کہ انہوں نے اپنی موٹرسائیکل ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دینی شروع کردی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹریفک خلاف ورزیوں کی 59 اقسام ہیں، جن پر چالان کیے جارہے ہیں، 51 خلاف ورزیوں پر موٹر سائیکل کے لیے 5 ہزار، کار کا 10 ہزار جرمانہ ہے،، رانگ وے جانے پر موٹر سائیکل پر 25 ہزار، کار پر 1 لاکھ جرمانہ ہوگا، جبکہ سرکاری کار کی رانگ وے ڈرائیونگ پر 2 لاکھ جرمانہ ہوگا۔ لاپروائی سے چلانے پر موٹر سائیکل کا 10 ہزار، کار کا 15 ہزار جرمانہ ہوگا، ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل پر 50 ہزار کار کا 1 لاکھ جرمانہ ہوگا، ہیوی وہیکل بغیر لائسنس چلانے کا جرمانہ ڈھائی لاکھ روپے ہوگا، غلط لین سے مڑنے پر کار اور موٹر سائیکل دونوں کا جرمانہ 10 ہزار ہوگا۔
پولیس کے اشارے پر نہ رکنے والی کار موٹر سائیکل کا جرمانہ 10 ہزار ہوگا، پریشر ہارن، فینسی لائٹس موٹر سائیکل پر 25 ہزار اور کار پر 1 لاکھ جرمانہ ہوگا، کم عمر موٹر سائیکل ڈرائیور پر 1 لاکھ اور کار ڈرائیور پر 2 لاکھ جرمانہ ہوگا، غیر رجسٹرڈ کار چلانے پر 50 ہزار اور موٹر سائیکل کا 10 ہزار جرمانہ ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام ابھی ان بھاری جرمانوں کے اثرات سے ہی باہر نہیں نکلے تھے کہ حکومت کی جانب سے اجرک والی نمبر پلیٹس کو لازمی قرار دیے جانے کا ایک اور نادر شاہی فیصلہ سامنے آگیا ہے، یکدم فیصلہ سامنے آنے کے بعد موٹرسائیکل سوار ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن نے اجرک کے ڈیزائن والی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی فیس 1850روپے مقرر کی ہے،محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن کے اعداد وشمار کے مطابق صرف کراچی میں اس وقت رجسٹرڈ موٹرسائیکلوں کی تعداد 34لاکھ 47ہزار سے زاید ہے،ایک موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ کی فیس 1850روپے ہے، اس حساب سے 34لاکھ 47ہزار نمبر پلیٹس کی مد میں سندھ حکومت کراچی کے موٹر سائیکل سواروں سے تقریباً 6 ارب 30 کروڑ سے زاید رقم وصول کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کے ان فیصلوں سے ایک مخصوص مافیا کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے جبکہ عوام کی زندگی اجیرن کی جارہی ہے۔عوام نئی نمبر پیلٹس کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے پر انتہائی اشتعال میں نظرآتے ہیں اور اس حوالے سے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سندھ میں اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی بھی عوام کی ذہنی کوفت سے بخوبی واقف ہیں اور اسے سندھ حکومت کا عوام دشمن فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔اس ضمن میں ایک تحریک التوا بھی سندھ اسمبلی میں جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نمبر پلیٹس نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جارہے ہیں۔حکومت سندھ کو اجرک کے نشان والی نئی نمبر پلیٹس لگوانے کا اتنا ہی شوق ہے کہ شہریوں کو مفت میں یہ نمبر پلیٹس فراہم کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لاکھ جرمانہ ہوگا موٹر سائیکل حکومت سندھ نمبر پلیٹس سندھ حکومت کہ حکومت حکومت کے حوالے سے کے بعد
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔