اسرائیل کا ایران پر دوبارہ حملے کا منصوبہ، ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
تہران(نیوز ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کے منصوبہ کے پیش نظر ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ دوبارہ حملے کے معاملے پر اسرائیل کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، نیتن یاہو کی ٹرمپ سے ملاقات دھوکا ہے اور سب پہلے سے طے شدہ ہے۔
ایرانی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ایران نے ممکنہ خطرات کے حوالے سے بھرپور تیاریاں کرلیں ہیں جبکہ ایرانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حملہ کیا تو جوابی کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہوگی۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر جنرل یحییٰ رحیم صفوی کا کہنا ہے کہ ایران نے ہر صورتحال اور ممکنات کے لیے تیاری کر لی ہے اور خفیہ جگہوں پر ہزاروں میزائل اور ڈرونز دفاع کے لیے موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں قدس فورس، نیوی اور آرمی کو مکمل طور پر استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے 13 جون کو ایران پر اپنے حملوں کا آغاز کیا تھا اور ابتدائی حملوں میں ہی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تھا۔
اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایران میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے۔
ایران نے اسرائیلی حملوں کا جواب دیتے ہوئے اسرائیلی علاقوں پر شدید میزائل حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں اسرائیل میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیل ایران جنگ کے دوران امریکا نے بھی ایران میں فردو، اصفہان اور نطنز میں ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے اور ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 جون کو جنگ بندی عمل میں آئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔