قطر ہمارا قریبی اتحادی ہے‘اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کرئے گا.صدرٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 ستمبر ۔2025 )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسرائیل قطر پر دوبارہ حملے نہیں کرے گا، قطر ہمارا قریبی اتحادی ملک ہے نشریاتی ادارے کے مطابق وائٹ ہاﺅس میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہاکہ قطر بہت اچھا اتحادی رہا ہے اور بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے لیکن وہ قطر کو نشانہ نہیں بنائے گا، شاید اسرائیل حماس کا پیچھا کرے یہ واضح نہیں کہ صدر کا مطلب کیا تھا لیکن ان کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ نیتن یاہو خلیجی عرب ریاست میں موجود حماس راہنماﺅں کے خلاف دیگر اقدامات کر سکتے ہیں.
(جاری ہے)
ٹرمپ نے معروف نیوز ویب سائٹ ”ایکسیوس“ کی خبرکی تردید کی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے ذاتی طور پر صدر ٹرمپ کو اطلاع دی تھی کہ اسرائیل منگل کو دوحہ پر حملے کرنے والا ہے ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو نے دوحہ میں حملے کی اطلاع نہیں دی تھی انہوں نے ایسا نہیں کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ حملوں کے بارے میں کیسے معلوم ہوا تو انہوں نے کہا کہ اسی طرح جیسے آپ کو معلوم ہوا. یادرہے کہحملوں کے بعد وائٹ ہاﺅس نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے انتظامیہ کو مطلع کیا تھا کہ میزائل فضا میں داغے جانے کے بعد یہ حملے ہونے والے ہیں اور دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کے پاس اعتراض کرنے کا موقع نہیں تھا دوحہ میں عرب لیگ اوراسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی سربراہی اجلاس میں راہنماﺅں نے گزشتہ روزجاری اعلامیے میں خبردار کیا کہ قطر پر اسرائیل کے حملے خطے کے لیے خطرناک نتائج کے حامل ہیں انہوں نے اجتماعی کارروائی پر زور دیا تاکہ اسرائیل کی جانب سے مشرق وسطیٰ پر نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے. قطر کے سرکاری ادارے”قنا“کے ذریعے جاری اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں دوحہ پر حملوں کی مذمت کی گئی اور قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اجلاس نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت خطے میں امن کے کسی بھی امکان کو کمزور کرتی ہے. بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل کے ان منصوبوں کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے جو خطے پر نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے ہیں، اور خبردار کیا گیا کہ ایسی کوششیں علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کہ اسرائیل نے کہا
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔