پنجاب کا بڑا حصہ ڈوب گیا، سندھ کے بیراجوں پر پانی کا دباؤ، کچے کے متعدد دیہات زیر آب
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
پنجاب کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوب گیا، مظفر گڑھ اور علی پور میں پنجاب حکومت کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، آبی ریلے اب تیزی سے سندھ کے مختلف علاقوں میں داخل ہورہے ہیں، کوٹری بیراج، گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، کچے کے متعدد دیہات سیلاب میں ڈوب گئے ہیں، سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا سلسلہ جاری ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق سندھ میں بڑے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، سکھر بیراج میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، کچے کے مختلف علاقے تالاب میں تبدیل ہو رہے ہیں، کوٹری بیراج کے مقام پر بھی دریائے سندھ بپھر رہا ہے، مانجھند، علی آباد سمیت مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں، تیار فصلیں پانی میں ڈوبنے سے لوگوں کے دل بھی ڈوب گئے۔
مانجھند کے قریب سيلابی پانی ميں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔
کشمور میں گڈو بیراج پر دریائے سندھ سے آنے والا ریلا حفاظتی بندوں سے ٹکراگیا، گھوٹکی کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے، قادر پور شینک بند کے بعد سیلاب رونتی بچاؤ بند سے بھی ٹکرانے لگا ہے، علاقہ مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔
سيہون میں سیلابی ریلے میں متعدد مکانات، فصلیں اور باڑے بھی بہہ گئے، بھینیسں، گائے اور دیگر مویشی پانی میں رہنے پر مجبور ہیں، علاقہ مکین بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی سے گزر کر محفوظ مقامات پر جارہے ہیں، اسکول کے بچے کشتیوں کا کرایہ ادا کرکے اسکول جانے پر مجبور ہیں۔
ٹھٹھہ میں دریائے سندھ میں طغیانی سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے، بچے بڑے سب اپنے مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے آگئے ہیں، کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔
علی پور، مظفر گڑھ میں ریلیف آپریشن جاری
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ علی پور اور مظفرگڑھ میں اس وقت بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن جاری ہے، جو علاقے میں بے مثال انخلا، ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جنوبی پنجاب میں اس پیمانے پر ریلیف سرگرمیاں کسی پچھلی حکومت نے سر انجام نہیں دیں۔
A massive relief operation is currently underway in Alipur, Muzaffargarh, marking an unprecedented scale of evacuation, rescue, and relief response in the region.
No previous government has conducted relief efforts of this magnitude in South Punjab.
To those spreading… pic.twitter.com/l5iAsB68R5
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 14, 2025
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ علاقے کے بارے میں غلط معلومات پھیلا رہے ہیں، سچائی زمین پر نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کابینہ کے اراکین ریلیف سائٹس پر موجود ہیں، سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ذاتی طور پر آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ بروقت اور مؤثر امداد یقینی بنائی جا سکے۔
ایک اور پوسٹ میں مریم نواز نے کہا کہ بہاولنگر میں سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں بچوں کے لیے پاکستان اور بھارت کے ایشیا کپ کے میچ کو دکھانے کے لیے بڑی اسکرین کا انتظام کیا گیا تھا، اس دوران ڈپٹی کمشنر بہاولنگر خود بھی متاثرین سیلاب کے ساتھ میچ دیکھنے کے لیے موجود رہے۔
A projector screen was arranged for kids at Flood Relief Camp, Bahawalnagar, for screening of Pakistan-India Asia Cup. Deputy Commissioner himself amongst the residents watching match. pic.twitter.com/ewVB9jAwfg
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) September 14, 2025
Post Views: 7
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محفوظ مقامات پر رہے ہیں نے کہا
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان