کراچی (نیوزڈیسک) گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے لیاری حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 80، 80 گز کے پلاٹ اور بے گھر خاندانوں کو راشن فراہم کرنے کا اعلان کر دیا۔

میڈیا سے گفتگو میں گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے گزشتہ 20 سال میں کسی رہائشی منصوبے میں ترقیاتی کام مکمل نہیں کیا، سرکاری رہائشی سکیموں میں تاخیر کی وجہ سے شہری پورشن لینے پر مجبور ہوتے ہیں، سکیم 42 تیسر ٹاؤن میں بیس سال سے ترقیاتی کام نہیں ہوئے۔

کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے کو معطل کیا گیا ہے، چہرے بدلنے سے نظام ٹھیک نہیں ہو گا، ایس بی سی اے کا سسٹم تبدیل کریں، یہاں کوئی سیاسی تکرار نہیں کرنی، یہ ہم سب کا شہر ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ لیاری کے عوام کو مایوس نہیں کروں گا، متاثرین گورنر ہاؤس میں خود کو رجسٹر کرائیں، ایوان میں آواز اٹھاؤں گا، عمارت گرنے کے واقعے پر وزیر اعلیٰ سندھ کا کمیٹی بنانا خوش آئند ہے، اس کے فیصلے کو ہم دیکھیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ حکومت 6 مہینے کا کرایہ اور اسی علاقے میں متاثرین کو گھر لے کر دے، جو خاندان بے گھر ہوئے ہیں، انہیں راشن فراہم کریں گے۔

گورنر کو فوراً کراچی آنا چاہئے تھا: سعدیہ جاوید

دوسری طرف ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ پانچ دن بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے پر گورنر کا شکریہ، کراچی کے لوگ مشکل میں تھے، آپ کو فوراً اسلام آباد سے کراچی آنا چاہئے تھا۔

سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی وعدہ مت کیجئے گا جو پورا نہ کرسکیں، اس وقت سیاست کی نہیں دادرسی کی ضرورت ہے، اچھی بات ہے کہ گورنرنے سندھ حکومت کےاقدامات کو سراہا۔

سندھ حکومت کی ترجمان نے سوال کیا کہ کہاں ہیں وہ رفاعی ادارے جو ہروقت گورنرہاؤس میں ہوتے ہیں لیکن لیاری نہیں آئے، نظام بدلنے کا آغاز ہو گیا ہے، مخدوش عمارتوں کےخلاف آپریشن لیاری میں جاری ہے، دائرہ کارپورے شہرمیں پھیلایا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:دوران پرواز مسافر کو دل کا دورہ، پھر کیا ہوا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گورنر سندھ سندھ حکومت

پڑھیں:

کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • پنجاب حکومت کا بڑا ریلیف، گھر کی مرمت اور توسیع کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلاسود قرض کا اعلان
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان