کراچی میں لوڈ شیڈنگ‘ نیپرا کاریجنل ہیڈذاتی حیثیت میں طلب
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بدترین اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں کی جانب سے دائر درخواست پر کے الیکٹرک، نیپرا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیپرا کے ریجنل ہیڈ کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں بدترین اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس فیصل کمال عالم نے ریمارکس میں کہا کہ ہم اس شہر میں رہتے ہیں، سب سمجھتے ہیں کہ کے الیکٹرک شہر میں کیا کر رہا ہے اور شہریوں کو کس قدر اذیت کا سامنا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل محمد واوڈا ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک اپنی لوڈشیڈنگ پالیسی کے برعکس 18،18 گھنٹے بجلی بند کر رہا ہے، جس سے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں اور نیپرا کو شکایات کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ عدالت نے کے الیکٹرک، نیپرا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیپرا کے ریجنل ہیڈ کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ قبل ازیں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت بجلی کی فراہمی کی ذمے دار ہے اور نیپرا پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کے الیکٹرک کی لائن لاسز پر مبنی لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے جبکہ 2 اپریل 2023 کو بھی نیپرا نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیپرا کو ہدایت دی جائے کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور شہریوں کو شدید گرمی میں بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ آئین کے تحت بجلی عوام کا بنیادی حق ہے۔
.ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک
پڑھیں:
علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی
اسلام آباد ہائی کورٹ میں علیمہ خان نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت کے 24 مارچ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ علیمہ خان نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ حکم کی خلاف ورزی پر ذمہ داران کو توہین عدالت کی سزا دی جائے۔
درخواست میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور پنجاب کے سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔