data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں بدترین اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں کی جانب سے دائر درخواست پر کے الیکٹرک، نیپرا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیپرا کے ریجنل ہیڈ کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔پیر کو سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں بدترین اور غیر قانونی لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران جسٹس فیصل کمال عالم نے ریمارکس میں کہا کہ ہم اس شہر میں رہتے ہیں، سب سمجھتے ہیں کہ کے الیکٹرک شہر میں کیا کر رہا ہے اور شہریوں کو کس قدر اذیت کا سامنا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل محمد واوڈا ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ کے الیکٹرک اپنی لوڈشیڈنگ پالیسی کے برعکس 18،18 گھنٹے بجلی بند کر رہا ہے، جس سے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والے صارفین بھی متاثر ہو رہے ہیں اور نیپرا کو شکایات کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ عدالت نے کے الیکٹرک، نیپرا اور وفاقی حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے نیپرا کے ریجنل ہیڈ کو 25 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا ہے۔ قبل ازیں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی حکومت آئین کے تحت بجلی کی فراہمی کی ذمے دار ہے اور نیپرا پہلے ہی قرار دے چکی ہے کہ کے الیکٹرک کی لائن لاسز پر مبنی لوڈشیڈنگ غیر قانونی ہے جبکہ 2 اپریل 2023 کو بھی نیپرا نے اس پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ نیپرا کو ہدایت دی جائے کہ وہ کے الیکٹرک کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور شہریوں کو شدید گرمی میں بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے کیونکہ آئین کے تحت بجلی عوام کا بنیادی حق ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا