کسی بھی فارمیٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی صورتحال اچھی نہیں: عاقب جاوید
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم اس وقت کسی بھی فارمیٹ میں تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے بتایا کہ اسکلز ڈویلپمنٹ کیمپ کا آج آخری دن ہے۔ اس کیمپ میں کھلاڑیوں کا کوچز سے ابتدائی تعارف کرایا گیا، جب کہ تیسرے مرحلے میں زیادہ تر وہ کھلاڑی شامل ہیں جو شاہینز کے ساتھ انگلینڈ روانہ ہوں گے۔ ان کے مطابق کیمپ کا مقصد آف سیزن میں کھلاڑیوں کو ایکشن میں رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوگا بلکہ اس کے مزید دو مراحل ہوں گے۔ شاہینز کی آسٹریلیا روانگی کی تیاری کے ساتھ ساتھ ریڈ بال کرکٹرز کی بھی تیاری کی جائے گی۔ عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ چھ سات روزہ کیمپ میں کھلاڑیوں کی خامیاں تو مکمل طور پر دُور نہیں کی جا سکتیں، لیکن انہیں یہ ضرور بتایا جاتا ہے کہ ان سے کیا توقع کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آل راؤنڈرز اور پیس بولرز کی تعداد بڑھانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، اور یہی کیمپس کے انعقاد کا بنیادی مقصد بھی ہے۔ یہ سلسلہ اکتوبر تک جاری رہے گا۔
عاقب جاوید نے بتایا کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا نیا سائیکل شروع ہونے جا رہا ہے اور پاکستان کے پاس اس میں اچھے مواقع موجود ہیں۔ ہر ٹیم ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھاتی ہے اور اسی حکمت عملی پر ہم بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کے اعلان پر کافی حد تک کام مکمل ہو چکا ہے اور جلد ہی اسکواڈ کا اعلان کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کا موقع دیا جائے گا، اور یہ عمل رکے گا نہیں۔ ہر کھلاڑی کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ فی الحال پاکستان ٹیم کی کارکردگی کسی بھی فارمیٹ میں مثالی نہیں۔ کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لیا جا سکتا، حتیٰ کہ بنگلادیش بھی اپنی ہوم کنڈیشنز میں سخت حریف ثابت ہوتا ہے، اس لیے اس سیریز کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عاقب جاوید کسی بھی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔