Express News:
2026-06-03@07:00:17 GMT

مزاحمت سے مفاہمت تک

اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT

پاکستان کے سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل حمید گل مرحوم کا کسی اخبار کے لیے آخری انٹرویو میں نے کیا تھا۔ صحافتی زندگی میں جن شخصیات نے ذہن پر گہرا نقش چھوڑا ان میں جنرل حمید گل بھی شامل ہیں۔ اس انٹرویو کے دوران انھوں نے بتایا کہ افغان جہاد کا آغاز سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔

یہ بات یقیناً ہمارے لیے کچھ حیرت کا باعث تھی۔ اُن کا کہنا تھا ریاستوں کی بنیادی پالیسیاں شخصیات کی باہمی چپقلش کی نذر نہیں ہوا کرتیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب سیاسی اعتبار سے بائیں بازو کے نظریات کی جانب جھکاؤ رکھتے تھے اور بعد میں بائیں بازو سے نظریاتی مطابقت رکھنے والی ملکی سیاسی جماعتوں نے اس جنگ میں افغانستان کے مذہبی عناصر کے خلاف روس نواز طبقوں کی حمایت کی، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ بھٹو صاحب اور ہمارے ادارے اس بات کو بھانپ چکے تھے کہ افغانستان میں بائیں بازو کی سیاسی قوتوں ’خلق اور پرچم‘ ( پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے دو دھڑے )کی جانب سے انقلاب ثور کے ذریعے صدر محمد داؤد کا تختہ اُلٹ دیے جانے کے بعد اب پاکستان کی مغربی سرحد پر حالات موافق نہیں رہیں گے۔

سو ہوا بھی یہی، 1979 میں روسی فوجیں افغانستان میں داخل ہوگئیں اور اُس طویل جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں ہمارا یہ خطہ دہائیوں تک غیر معمولی مشکلات کا شکار رہا۔ جنرل صاحب کا کہنا تھا کہ ہم نے اُسی وقت سے انقلاب مخالف قوتوں کی مدد کا آغاز کر دیا تھا۔ طویل عرصہ تک خانہ جنگی اور بیرونی عسکری مداخلت کا شکار رہنے والے علاقوں میں ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ مار دھاڑ کرنے والے عسکری گروہ ایک دائمی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، حالانکہ ان کی ضرورت وقتی ہوتی ہے۔ یہی کچھ افغانستان میں بھی ہوا۔

افغانستان میں اُترنے والی عسکری قوتوں نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کو بھی اس لیے نشانے پر رکھا کیونکہ ان کے پاکستان کے ساتھ قریبی نسلی تعلق کی بنا پر افغانستان میں جاری تصادم میں پاکستان کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا۔ پاکستان کے اثر کو کمزور کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے ریاست مخالف سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کو منظم کیا گیا۔ دہشت گردی کے جس طوفان کا پاکستان نے سامنا کیا ہے اور ابھی تک کر رہا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جب ہم اس جنگ میں اُلجھ گئے تو ہمارے سب دشمن اس میں کود پڑے۔

انھیں یہ نظر آرہا تھا کہ مشکل کے اس دور میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا مقصد زیادہ آسانی سے حاصل کیا جاسکتا ہے لہٰذا بھارت نے پہلے سے موجود غیر ریاستی عسکری قوتوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی روش کو نہ صرف یہ کہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ اسے ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ بھارت نے پوری قوت کے ساتھ صوبائیت اور نسلی منافرت کو ہوا دی۔ پاکستان کے اندر ریاست مخالف تحاریک اور عسکری گروہوں کو منظم کیا اور پوری شدت کے ساتھ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش جاری رکھی۔

اس دوران حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے ذریعے ریاستی عملداری کو بحال کرنا پڑا۔ یہ مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مُنہ بولتا ثبوت ہے کہ مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال کو انتہائی کامیابی کے ساتھ سنبھال لیا گیا۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں دشمن کا ایک اہم ہدف بلوچستان بھی رہا ہے۔ اپنی غیر معمولی جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے یہ صوبہ تمام عالمی طاقتوں کی نظروں میں ہے۔ چین کے ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں کلیدی حیثیت کے باعث بین الاقوامی سیاسی کشمکش میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، لہٰذا اسی تناسب سے یہاں غیر ملکی مداخلت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بلوچستان میں تخریب کاری پر ہی مامور تھا جو اب پاکستان کی قید میں ہے۔

 اس طرح کی صورتحال میں جہاں عسکری ذرایع استعمال کرکے مقاصد حاصل کرنے پڑتے ہیں وہیں یہ بھی نہایت ضروری ہو جاتا ہے کہ اُن مسائل کا سد باب ہو جن کے باعث ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے افرادی قوت میسر آ رہی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا عسکری آپریشنز کے ذریعے آپ دشمن کی ایما پر ریاست کے خلاف برسر پیکار جنگجوؤں کا زور تو توڑ سکتے ہیں، ان کے ذہن نہیں بدل سکتے۔ آپریشن ایک فوری خطرے کے تدارک کی سبیل ہے جب کہ قوم کی ذہن سازی ایک ایسا عمل ہے جس کے اثرات اگلی نسلوں تک چلتے ہیں۔ اس عمل کا ہراول دستہ قوم کے دانشور ہوتے ہیں اور ان کے قلم کی تاثیر سے ایسی جوہری تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے جو ’کارواں کے دل میں احساس زباں پیدا کر دے‘۔

گزشتہ دنوں ایک ایسی ہی موثر کوشش میری نظر سے گزری جسے پڑھنے کے بعد شدت سے یہ احساس ہوا کہ اس کتاب کا ذکر جس قدر ہونا چاہیے وہ نہیں ہوسکا۔ یہ کتاب بلوچستان کے ایک ایسے سرکردہ جنگجو کی داستان حیات ہے جس نے ریاست کے خلاف طویل عرصہ تک جنگ لڑی اور پھر اس نتیجے پر پہنچا کہ اپنے لوگوں کے حالات بدلنے کے لیے دلیل بندوق سے کہیں زیادہ موثر اور کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ کہانی ہے ’میر ہزار خان مری، کی، جن کی زندگی کا بڑا حصہ ریاست کے خلاف لڑتے ہوئے گزرا۔ یہ کہانی اس لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اس کے ذریعے اس حقیقت کو ایک ایسے شخص کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے جو خود اس کا حصہ رہا کہ کس طرح عالمی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے لوگوں کو اپنی ہی ریاست کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔

دہشت گردی کے اس پیچیدہ منظر نامے میں فرقہ واریت کو بھی استعمال کیا جاتا ہے اور سیاسی وابستگیوں کو بھی۔ بلوچستان میں جس ابتری کا ہمیں سامنا ہے اس میں ریاست کی غلطیاں اور عدم توجہ اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ کتاب ’میر ہزار خان مری: مزاحمت سے مفاہمت تک‘ ، گوکہ بظاہر ایک شخصیت کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے لیکن درحقیقت اس شخصیت کے ذریعے ہم بلوچستان کے اصل مسئلے اور اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

کتاب کے مصنف عمار مسعود کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ یوں تو صحافت سے منسلک ہیں لیکن افسانہ نگاری کا ہُنر اِن کی تحریر کا امتیازی وصف ہے۔ اُن کے تعارف میں ٹیلی ویژن بھی شامل ہے۔ افسانہ نگاری کے علاوہ مضامین بھی لکھتے ہیں اور مضامین کا مجموعہ شایع ہوچکا ہے۔ سیاست پر بھی لکھتے، بولتے ہیں۔ اس کتاب کو تکمیل تک پہنچانے میں ایک اور اہم نام خالد فرید کا ہے جو بلوچستان کے معاملات کی غیر معمولی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ اپنی اہم سرکاری ذمے داریوں کی ادائیگی کے لیے طویل عرصہ بلوچستان میں رہے۔ اس کے علاوہ افغانستان اور ایران میں بھی وقت گزرا۔ ان خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازے گئے۔ میر ہزار خان سے ان کا تعلق دوستانہ تھا۔

اس کہانی کی بہت سی خفیہ تفصیلات خالد فرید کی میر ہزار خان مری سے طویل ملاقاتوں کے دوران ہونے والی بات چیت کے توسط سے ہم تک پہنچی ہیں، جب کہ کہانی کے مرکزی کردار کی زندگی کے تمام ادوار سے متعلق تصاویر بھی خالد فرید ہی نے فراہم کی ہیں۔ کتاب میں شامل اہم تفصیلات کو ہم تک پہنچانے میں بیورغ مری نے بھی ہاتھ بٹایا۔ بیورغ، میر ہزار خان کے پوتے ہیں جو تمام عمر اپنے دادا کے ساتھ رہے۔ انھوں نے اس عرصہ میں جو دیکھا اس کو بیان کیا ہے۔

عمار مسود نے اس کتاب کا آغاز ’اعتراف‘ سے کیا ہے۔ اعتراف اس بات کا کہ ملک کے دیگر حصوں کے بسنے والوں نے بلوچستان کو ’یہاں کے لوگوں کو اور ان معاملات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ کتاب کا پہلا باب میر ہزار خان کی وفات کے حالات کا احاطہ کرتا ہے یوں کتاب کا بیانیہ اختتام سے آغاز کی جانب سفر کرتا ہے اور حقیقت ہے بھی یہی کہ بھٹکے ہوؤں کا لوٹ آنا ہی درحقیقت آغاز ہوتا ہے۔

کتاب کا پیش لفظ صدر مملکت آصف علی زرداری جب کہ دیباچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہے۔ : وہ کہتے ہیں ’’میری نظر میں میر ہزار خان کی یہ کہانی لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے نہیں بلکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر نصاب میں متعارف کرانے کے لیے ہے۔ اس لیے کہ اس میں نوجوانوں کے لیے وہ رہنما اصول موجود ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ملک دشمنوں کی سازشوں کو بروقت سمجھا اور ان کا سدباب کیا جا سکتا ہے‘‘۔ بلوچستان میں جاری بد امنی کو سمجھنے کے لیے اس سے بہتر مواد میری نظر سے نہیں گذرا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان میں ریاست کے خلاف بلوچستان میں پاکستان کو پاکستان کے کے ذریعے کے ساتھ کتاب کا

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی