پاکستان 22 جولائی کو کثیر الجہتی تعاون سے متعلق اجلاس کی میزبانی کرے گا:دفترخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
ا سلام آ باد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان 22 جولائی کو کثیر الجہتی تعاون سے متعلق اعلی سطحی اجلاس کی میزبانی کرے گا، 23 جولائی کو فلسطین کے مسئلے پر سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا جائے گا۔
ڈان کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ہمیشہ سے دوستانہ تعلقات کا خواہشمند رہا ہے لیکن ہم بار بار بھارت کی تیز رفتار جنگی تیاریوں کی جانب اشارہ کر چکے ہیں، پاکستان کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سارک کا اجلاس جب بھی ہو گا پاکستان میں ہو گا، پاکستان اس کی میزبانی کرے گا، اس کے لیے ہم تیار ہیں، صرف ایک ملک اس اجلاس کے انعقاد میں رکاوٹ ہے اور وہ بھارت ہے، ہم عالمی برادری کی توجہ بھارت کی بڑھتی ملٹرائزیشن اور عسکری تیاریوں کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں۔
شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ ایس سی او وزرائے دفاع کانفرنس کے دوران بھارتی مشیر قومی سلامتی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے حوالے سے ہمارا موقف انتہائی واضح ہے، ہمارے افغانستان سے باہمی تعلقات انتہائی اہم ہیں اور ہم مسلسل دہشت گردی کا معاملہ اپنے افغان دوستوں سے اٹھاتے رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان تبت سمیت چین کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہے، اور پاکستان کشمیری راہنما شبیر احمد شاہ کی دہلی جیل سے فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔
شفقت علی خان نے مزید کہا کہ ہم نے روس کی جانب سے کابل میں حکومت کو تسلیم کیے جانے کی خبر دیکھی ہے ، روس اس خطے کا اہم ملک ہے اور ہم تبدیلیوں کو نوٹ کررہے ہیں، یہ افغانستان اور روس کے درمیان باہمی معاملہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے اتراکھنڈ میں مزارات کی مسماری بھارت کی مسلم دشمنی کی عکاس ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے 246 قیدیوں کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے، بھارت پر زور دیتے ہیں کہ پاکستانی قیدیوں کی حفاظت کی جائے، 2008کے قونصل رسائی معاہدے کے تحت فہرستوں کاتبادلہ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی درخواست خارج کردی، عدالت کا پاکستان کے حق میں فیصلہ ہماری فتح ہے۔
پنجاب کے سکولوں میں 46 ہزار سے زائد اساتذہ سرپلس ہونے کا انکشاف، وزیر تعلیم کا نوٹس
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کہ پاکستان بھارت کی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔