چائنا میڈیا گروپ نے میلان سرمائی اولمپکس کے لئے نشریاتی حقوق حاصل کر لئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
بیجنگ :
2026 میلان سرمائی اولمپکس کی سرکاری ویب سائٹ نے اپنے ہوم پیج پر یہ خبر شائع کی ہے کہ میلان سرمائی اولمپکس کی آرگنائزنگ کمیٹی اور چائنا میڈیا گروپ نے تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں، اور چائنا میڈیا گروپ باضابطہ طور پر میلان سرمائی اولمپکس کے براڈکاسٹنگ حقوق رکھنے والی نشریاتی ایجنسی بن گیا ہے۔ معاہدے کے مطابق، دونوں فریق 2026 میلان سرمائی اولمپکس سے متعلق سرگرمیوں کے فروغ اور نشریات میں تعاون کو مضبوط کریں گے، متعدد تعاون کے منصوبے جیسے کہ میٹریل اور میڈیا کی مشترکہ پروڈکشن، کھیلوں اور سرمائی کھیلوں کے فروغ، اور اطالوی اور چینی سرمائی اولمپک ثقافت کے فروغ کے لیے تعاون کریں گے۔
یاد رہے کہ مارچ 2021 کے اوائل میں، چائنا میڈیا گروپ نے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے ساتھ ایک معاہدے کے ذریعے 2026 میلان سرمائی اولمپکس کے لیے چائنیز مین لینڈ میں خصوصی ٹیلی ویژن نشریاتی حقوق حاصل کیے تھے۔ رواں ماہ کی 23 تاریخ کو چائنا میڈیا گروپ کے سربراہ شن ہائی شیونگ اور اطالوی اولمپک کمیٹی کے صدر اور 2026 میلان سرمائی اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین جیوانی ملاگو نے سوئٹز لینڈ کے شہر لوزان میں فریقین کی جانب سے تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔