امریکا نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ شرائط مزید سخت کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )امریکی حکومت نے پاکستانی شہریوں کے لیے اسٹوڈنٹ اور تبادلہ پروگرام کیٹیگریز کی درخواست دینے والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو "پبلک" کریں تاکہ امریکی حکام ان کی شناخت اور سکیورٹی ویٹنگ کر سکیں۔
یہ ہدایات امریکی قونصل خانوں کراچی اور لاہور کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری کی گئیں، جو اس ہفتے دہلی میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کی توسیع ہیں۔
بیان کے مطابق، "تمام افراد جو F، M یا J کیٹیگری کے غیر امیگریشن ویزا کے لیے درخواست دے رہے ہیں، وہ اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پرائیویسی سیٹنگز کو 'پبلک' پر سیٹ کریں تاکہ ان کی شناخت اور امریکہ میں داخلے کے اہل ہونے کی تصدیق کی جا سکے۔"
اسرائیل کا حماس کے بانی رہنما، حزب کمانڈر شہید کرنے کا دعویٰ، 72 فلسطینی جاں بحق
واضح رہے کہ 2019 سے امریکہ تمام ویزہ درخواست دہندگان سے سوشل میڈیا کی معلومات (اکاؤنٹ ہینڈلز) طلب کرتا رہا ہے، لیکن اب یہ شرط سختی سے لاگو کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق، سوشل میڈیا معلومات نہ دینا یا جھوٹی معلومات فراہم کرنا ویزہ انکار اور مستقبل میں نااہلی کا سبب بن سکتا ہے۔
F اور M ویزے امریکی تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ J ویزا تبادلہ پروگرامز میں شامل افراد کے لیے مخصوص ہے۔یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے اسٹوڈنٹ ویزہ سسٹم کی بحالی اور سکیورٹی چیکنگ کو سخت بنانے کی پالیسی کے تحت سامنے آیا ہے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن میں 20 بچوں کی اموات پر کمشنر کا نوٹس
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔