ایشیاکپ سے قبل قومی ٹیم کے کوچنگ پینل میں بڑی تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (اسپورٹس ڈیسک )ایشیا کپ سے قبل قومی ٹیم کی کوچنگ پینل میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں کردی گئیں ہیں،پاکستان ٹیم کے فیلڈنگ کوچ محمد مسرور کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔قومی ٹیم کے فیلڈنگ کوچ محمد مسرور کو عہدے سے ہٹانے کے بعدآسٹریلوی شین میکڈرمٹ کو قومی ٹیم کا فیلڈنگ کوچ مقرر کردیا گیا،شین میکڈرمٹ اس سے قبل آسٹریلیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔اس کے علاوہ گرانٹ لوڈن کو اسٹرنتھ اینڈ کنشن کوچ مقرر کردیا گیا، گرانٹ لوڈن اس سے قبل پاکستان ٹیم کے ساتھ کام کر چکے ہیں،دونوں کوچزکو ٹیم کے نئے بنائے جانے والے وٹس ایپ گروپ میں شامل کردیا گیا۔عمر گل کو پاکستان شاہینزکا ہیڈ کوچ مقرر کردیا گیا،عمر گل ایک سال سے پی سی بی کے ساتھ منسلک ہیں،نئے کوچز بنگلہ دیش سیریز کے لئے لگائے جانے والے کیمپ کا حصہ ہونگے۔خیال رہے کہ فیلڈنگ کوچ محمد مسرورکا معاہدہ سیریز ٹو سیریز تھا،جس معاہدے کو پی سی بی نے نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیلڈنگ کوچ کردیا گیا قومی ٹیم ٹیم کے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔