محرم الحرام، فیک نیوز کی مانیٹرنگ کیلئے نیا سسٹم نافذ، خصوصی کنٹرول روم قائم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
ٰلاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران قیام امن کے لئے فیک نیوز کی مانیٹرنگ اور روک تھام کے لئے پہلی مرتبہ خصوصی اقدامات، نیا سسٹم نافذ اور سپیشل کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔ مریم نواز نے محرم کے دوران سوشل میڈیا پر فیک نیوز نشر کرنے پر سخت قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر متنازعہ مواد کی تشہیر کرنے والے افراد کی ٹریسنگ کا آغاز کر دیا گیا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ پنجاب میں سپیشل برانچ کی رپورٹ پر درجنوں متنازعہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر دیئے گئے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبے میں پہلی مرتبہ سائبر پٹرولنگ یونٹ ذمہ داریاں سرانجام دے گا۔ قابل اعتراض سوشل میڈیا موادکی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے لئے پی آئی ٹی بی کا خصوصی پورٹل بھی فعال کر دیا گیا۔ سپیشل سیل میں مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر مشتمل سوشل میڈیا مواد کی 24/7 مانیٹرنگ کی جائیگی۔ پورٹل پر متنازعہ مواد کی رپورٹنگ کے بعد اکاؤنٹ کی بندش اور اکاؤنٹ ہولڈر کو ٹریس کیا جاتا ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی مواد کی تشہیر و اشاعت اور تقاریر پر مکمل پابندی یقینی بنانے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔ مریم نواز نے محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کو محفوظ بنانے کے لئے کوئیک رسپانس فورس تعینات کرنے کا حکم دیا۔ جلوسوں کے دوران سکیورٹی کے لئے چاروں اطراف آہنی پائپ کی تنصیب کیے جائیں گے۔ عشرہ محرم کے ہر جلوس کے داخلی گیٹ پر خصوصی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ آنے والوں کو چہروں سے شناخت کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے مجالس اور جلوسوں میں خواتین عزاداروں کی سکیورٹی کے لئے خواتین پولیس افسر اور اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ واقعہ کربلا امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدام کریں گے۔ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں عشرہ محرم الحرام حساس ہے، کوتاہی کی قطعاً گنجائش نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محرم الحرام کے سوشل میڈیا مریم نواز کے دوران کی ہدایت مواد کی کے لئے
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔