وزیراعظم سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سعودی عرب کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیراعظم نے حرمین شریفین کے متولی شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لئے اپنے پر خلوص جذبات کااظہار کیا اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کے ساتھ اپنی حالیہ 24 جون کی ہونے والی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے لیے مفاہمت میں اس کے اہم کردار کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے جولائی کے مہینے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے اور اس مدت کو سعودی عرب کی حمایت سے گزارنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ سعودی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار پر وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔