پنجاب میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، کراچی میں ہلکی بوندا باندی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں علی الصبح ہونے والی موسلا دھار بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا اور فضاء کو خوشگوار بنا دیا، بارش کے باعث درخت اور سڑکیں دھل گئیں جبکہ شہریوں نے موسم کے بدلتے رنگ کا بھرپور لطف اٹھایا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 2 سے 5 گھنٹوں کے دوران نئے موسمی سسٹمز کی تشکیل متوقع ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ لاہور سمیت جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، پاکپتن، اوکاڑہ، قصور، ننکانہ صاحب، خانیوال، ڈیرہ غازی خان اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چلنے کی توقع ہے۔
موسمی ماہرین کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق شہر قائد میں کہیں کہیں بوندا باندی اور ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے موسم مزید خوشگوار ہو جائے گا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 79 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قدرے حبس کا احساس بھی برقرار ہے۔
ادارے کے مطابق سمندری ہوائیں 15 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شہر کی فضاء کو مرطوب رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ محکمہ موسمیات کے مطابق کا امکان
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔