Express News:
2026-06-03@08:40:33 GMT

دکھاوا یا ذہنی بیماری

اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT

مہنگائی کی مار نے اچھے اچھوں کی سٹی گم کردی ہے، ملک میں آدھے سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے لیکن آپ کسی بھی شاپنگ سینٹر یا شاپنگ مال میں چلے جائیں وہاں آپ کو رش نظر آئے گا۔ خواتین کی تعداد ہر شاپنگ مال میں زیادہ ہوتی ہے اورکہیں سیل لگ جائے تو خواتین بلا ضرورت بھی چار پانچ سوٹ تو لازمی لے کر آئیں گی۔ میاں کی جیب سلامت رہے تو ایسی فضولیات کے لیے پیسہ بہت ہے اور اگر میاں کی جیب اجازت نہ دے تو گھر میں تیسری عالمی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔

وہ خواتین جو جاب نہیں کرتیں، انھیں مہنگائی کا آسیب نظر نہیں آتا، بارہ بجے ملازمہ کے آنے پر بستر چھوڑنا اور پھر ناشتے کے بعد سہیلیوں یا میکے والوں کے ساتھ باتیں کرنا، ایک عام سی بات ہے، ان خواتین کو شوہر اے ٹی ایم کارڈ لگتا ہے جب تک یہ اے ٹی ایم کارڈ بیگم صاحبہ کی خواہشات پوری کرتا رہے تو ٹھیک ہے، ورنہ روز لڑائی جھگڑا،کبھی فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانے کی فرمائش، توکبھی سیل میں لگی اشیا کے لیے نقد رقم میاں صاحب سے وصول کرنی، نہ دینے پر جھگڑا کرنا،گھر میں کھانا نہ پکانا، عام سی بات ہے، ان خواتین کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ مرد کن تکالیف سے گزرتے ہیں، لیکن ان کو صبح ناشتہ بھی نہیں ملتا، اکثر گھروں میں مرد خود ناشتہ بناتے ہیں، بیگم صاحبہ ملازمہ کے آنے کے بعد اٹھیں گی۔

یہ کیا ہے؟ دراصل یہ سب دکھاوا ہے جو ایک طرح سے ذہنی بیماری بھی ہے۔ اوروں کی دیکھا دیکھی اپنا بجٹ آؤٹ کرنا، شوہر کو پریشان کرنا یا پھر ناراض ہو کر میکے چلے جانا۔ اس دکھاوے نے زندگیوں کو اجیرن کردیا ہے، شوہر کما کما کر لا رہا ہے اور بیویوں کے مزاج ہی نہیں ملتے، جب کہ ملازمت پیشہ خواتین ناجائز مطالبات نہیں کرتیں، ملازمت کرنا آسان نہیں ہے، سب کو سرکاری ملازمتیں نہیں ملتیں اور پرائیویٹ ملازمتوں میں ہمیشہ برطرفی کی تلوار سر پر لٹکتی رہتی ہے، لیکن گھریلو خواتین کی بے جا فرمائشوں کی وجہ سے مرد اکثر ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں دکھاوا بہت ہے، جو جوڑا ایک تقریب میں پہن لیا ہے وہ کسی دوسری تقریب میں نہیں پہنا جائے گا، گویا یہ کاغذی پیرہن ہوتے ہیں جو ایک بار پہن کر الماری میں لٹکا دیے جاتے ہیں۔ کہنے کو مہنگائی بہت ہے لیکن جس دکان پر آپ جائیں گے، خواتین وہاں ضرور موجود ہوں گی، یہی نہیں بلکہ آپسی گفتگو میں بھی بڑھ چڑھ کر جھوٹ بولا جاتا ہے، دکھاوے کی وجہ سے بعض اوقات انسان بڑی مشکل میں پڑ جاتا ہے۔

اب شادی بیاہ ہی کو لے لیجیے، اس دکھاوے کی وجہ سے بہت سے لڑکے اور لڑکیوں کی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں، مہندی، مایوں، برات، ولیمہ، چوتھی۔ ایک طویل فہرست ہے، پہلے تو خواتین کے ملبوسات کی خریداری پر کثیر رقم خرچ ہو گی، پھر دونوں طرف شادی کی تیاریاں۔ لڑکے والے بری بنانے میں قرض دار ہو جاتے ہیں، سونے کا زیور لازمی دلہن کو چڑھانا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، دونوں طرف سے دلہن کے لیے چالیس سے پچاس جوڑے اور جوتے، جو وقت گزرنے کے ساتھ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں اور پہنے نہیں جاتے، لڑکے والے سونے کے سیٹ کے لیے انھیں قرضہ لینا پڑتا ہے اور پھر یہ قرضہ اتارنا بھی پڑتا ہے۔ دلہن والے جہیز کے نام پر جو سامان دیا جاتا ہے اس میں سے اکثر چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہوتی، اپر مڈل کلاس میں دکھاوا بہت ہے، وہ بلاضرورت بھی قیمتی اشیا جہیز میں دیتے ہیں۔

میرے اپارٹمنٹ کے قریب ہی ایک نوجوان اکیلے رہتے تھے، کاروبار اچھا تھا، والدین نہیں تھے البتہ بہن بھائی تھے، نوجوان نے اپنے اپارٹمنٹ کو بلڈنگ کا سب سے خوبصورت اپارٹمنٹ بنا دیا تھا، لڑکی ڈھونڈی جا رہی تھی، بالآخر مطلوبہ لڑکی مل گئی، نوجوان کی بہن نے واضح طور پر کہہ دیا کہ انھیں جہیز کے نام پر کچھ نہیں چاہیے، لیکن شادی سے دو دن پہلے ٹرک بھر کر سامان آگیا، اب یہ لوگ پریشان کہ سامان کہاں رکھیں، مسئلہ یہ بھی تھا کہ ٹی وی، فریج اور صوفے گھر میں تھے، انھیں یہ نہیں دینا چاہیے تھے جب کہ لڑکے والوں کی کوئی ڈیمانڈ بھی نہیں تھی، دو افراد کے گھر میں نہ دوسرے ٹی وی کی ضرورت تھی نہ فریج کی۔ بہتر ہوتا کہ والدین کچھ نقد رقم بیٹی داماد کو دے دیتے۔

جن کے پاس دو نمبرکا پیسہ ہے وہ تو دکھاوا کریں گے ضرور، مہندی، مایوں، برات اور ولیمہ فائیو اسٹار ہوٹلوں میں کی جاتی ہیں، لیکن عام لوگوں کو اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں۔ ایک مذہبی فریضے کو بلاوجہ زحمت کا باعث بنا دیا گیا ہے۔ دکھاوے کے عذاب سے نکل کر دیکھیں زندگی بہت خوب صورت ہے۔

دونوں خاندان مل بیٹھ کر معاملات طے کریں، بلاوجہ قرض دار ہونے کا کیا فائدہ، گزشتہ دنوں میں ایک شادی میں مدعو تھی، بال روم میں تقریب تھی اور لوگ بھی کم تھے، لڑکی کی ماں نے لڑکے والوں سے صاف کہہ دیا کہ برات میں 70 لوگ لائیں، انھوں نے خوش دلی سے قبول کر لیا، اور لڑکے والوں نے بھی ایک بال روم میں ولیمہ رکھا اور انھوں نے بھی مختصر لوگوں کو بلایا تھا، دونوں خاندانوں نے باہم صلاح و مشورے سے تمام معاملات طے کر لیے، نہ لاتعداد جوڑے دیے گئے، نہ لباس کی میچنگ کے ڈھیروں جوتے بھی نہیں دیے۔ لڑکے والوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ سونے کا سیٹ نہیں چڑھائیں گے، البتہ جوڑوں کی میچنگ کے پانچ جوتوں کے جوڑے بھی لائے۔ ویسے بھی اصلی سونے کے زیور اب کوئی نہیں چڑھاتا، اور اگر کوئی چڑھا بھی دے تو پہننے میں نہیں آتے، آئے دن خبریں آتی ہیں کہ کسی خاتون کی گلے کی چین چھین لی گئی۔

 آئے دن پتا چلتا ہے کہ نجانے کتنی خواتین کے ہاتھوں سے چوڑیاں اتروا لی گئیں، میری بھتیجی کو زیور پہننے کا بہت شوق تھا، گزشتہ سال نئی گاڑی میں شوہر اور چھوٹے بیٹے کے ساتھ کہیں جا رہی تھیں، شوہر نے ٹوکا بھی کہ آرٹیفیشل جیولری پہن لو، لیکن انھوں نے ایک نہ سنی کہ جب اصلی جیولری ہے تو نقلی کیوں پہنیں۔ پھر ہوا یوں کہ کریم آباد چورنگی کے قریب گاڑی پٹرول پمپ پر روکی تاکہ پٹرول ڈلوا سکیں، ابھی پٹرول ڈلوا کر فارغ ہوئے تھے کہ تین ڈکیت آگئے اور اسلحے کے بل پر ساری جیولری اتروا لی اور نئی گاڑی بھی چھین لی۔ ایک ڈکیت پورے وقت دس سالہ بیٹے کے سر پر پستول تانے کھڑا رہا، کم بختوں نے ایک دھیلا نہ چھوڑا۔

اصل میں ایک مسئلہ اور بھی ہے، وہ ہے ’’ لوگ کیا کہیں گے۔‘‘ ناک کٹ جانے کا ڈر اور اسی لوگ کیا کہیں گے کے ڈر کی وجہ سے ڈھیروں جہیز دیا جاتا ہے، مایوں، مہندی کا خرچہ اٹھایا جاتا ہے اور زیر بار ہوا جاتا ہے، کیا یہ بہتر نہیں کہ غور کریں اور باہمی صلاح و مشورے سے مایوں، مہندی کو ختم کریں اور دونوں پارٹیاں صرف قریبی عزیزوں کو تقریب میں بلائیں، اس طرح نہ قرضہ لینا پڑے گا، نہ زیر بار ہوا جائے گا۔ اگر کوئی ایک پہل کر دے تو دوسروں کو بھی حوصلہ ہوگا۔

لیکن پھر وہی سوال ہے کہ ’’پہل کون کرے‘‘ لوگ رشتے داروں کی باتوں سے ڈرتے ہیں، لیکن کتنا ہی بڑھیا کھانا کھلائیں، بعد میں رشتے دار ایسی باتیں کرتے ہوئے پاتے جاتے ہیں کہ بریانی میں بوٹیاں بہت کم تھیں۔ قورمے میں مرچیں زیادہ تھیں، بروسٹ اندر سے کچا تھا، چکن کڑھائی بالکل بدمزہ تھی اور میٹھا تو کم پڑگیا تھا، لوگوں نے دو دو تین تین بار کھایا، کھا پی کر تنقید کرنا ہماری سوسائٹی میں عام ہے اور یہ بھی سو فی صد سچ ہے کہ جن لوگوں کو نئی نئی دولت ملتی ہے، ان میں دکھاوا بہت زیادہ ہوتا ہے، برسوں کی محرومیوں کا علاج وہ اچانک ملنے والی دولت کی نمائش سے کرتے ہیں۔

پنجاب میں تو اور برا حال ہے، وہاں جہیز میں لحاف، گدے اور چارپائیوں کے رنگین پائے تک دیے جاتے ہیں، کئی کئی عدد لحاف اور گدے اسٹور میں یا بڑے صندوقوں میں بند کرکے رکھ دیے جاتے ہیں اور مہمانوں کے آنے پر نکالے جاتے ہیں۔ ایک اور برا دستور یہ بھی ہے کہ آس پاس کے گاؤں گوٹھوں سے مہمان کئی کئی دن پہلے آ کر براجمان ہوتے ہیں۔ یہاں بھی ان کی ناراضگی کا خیال میزبانوں کو کرنا پڑتا ہے۔ وہی لوگ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں جنھیں اچانک کہیں سے دولت مل جائے۔ لیکن بعض جگہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے، لاکھوں کے قرض دار ہو جاتے ہیں اور پھر ساری عمر قرض چکانے میں گزر جاتی ہے، دن کا چین اور رات کا آرام حرام ہو جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہو جاتے ہیں کی وجہ سے ہی نہیں جاتا ہے گھر میں بہت ہے کے لیے یہ بھی ہے اور

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود