سندھ،کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کا ممکنہ سیلاب کے باعث ہتھیار ڈالنے پر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 9 September, 2025 سب نیوز

گھوٹکی (سب نیوز)دریائے سندھ کے قریب کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران 260 سے زائد ڈاکووں نے پولیس سے رابطہ کیا ہے اور ہتھیار ڈالنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے حکومت سے ان کی معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے سہولت فراہم کرنے کی شرط عائد کی ہے۔باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ دریائی علاقوں میں حالیہ سیلابی صورتحال ڈاکوں کی ہتھیار ڈالنے کی خواہش کی ایک بڑی وجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت پر کچہ ایریاز مانیٹرنگ کمیٹی(کے اے ایم سی)کے افتتاحی اجلاس میں غور کیا گیا، جس میں جاری جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی، سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کی مجموعی حکمتِ عملی کا جائزہ لیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ لاڑکانہ پولیس نے اعلی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ کچے کے علاقے میں 260سے زائد ڈاکو ممکنہ سیلابی خطرے کے پیش نظر ہتھیار ڈالنے کے خواہش مند ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب میں سیلاب کے نام پر آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دینگے، عظمی بخاری پنجاب میں سیلاب کے نام پر آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دینگے، عظمی بخاری چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس ، ماحولیاتی بہتری اور کاربن کریڈٹ پروگرام سے متعلق اقدامات پر تفصیلی غور چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا پارک روڈ پر قائم ماڈل نرسری کا دورہ، مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا اپنی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنانیوالے کسی اقدام کو قبول نہیں کرینگے، قطر کا اسرائیلی حملے پر ردعمل اسرائیل کا قطر میں فضائی حملہ، حماس رہنما خلیل الحیہ اور ظہیر جبرین شہید چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس، نئے سیکٹر میں ڈویلپمنٹ پر ابتک ہونے والی پیشرفت کا جائزہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ہتھیار ڈالنے جرائم پیشہ سیلاب کے کچے کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد