Express News:
2026-07-24@04:40:33 GMT

پاکستان کی معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہے، وزیرخزانہ

اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT

اسلام آباد:

وفاقی وزیر برائے خزانہ و ریونیو محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہے اور مضبوط پوزیشن میں ہے، مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور توقع ہے کہ نجکاری کا عمل مزید تیزی سے آگے بڑھے گا۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے مطابق وزیرخزانہ محمد اورنگزیب سے یورپی یونین کے نومنتخب سفیر برائے پاکستان رائموندس کاروبلس نے ملاقات کی اور اس موقع پر دو طرفہ دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی، خصوصاً اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔

وزیر خزانہ نے یورپی سفیر کا خیرمقدم کیا اور ملک کی معاشی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت بحالی کے راستے پر گامزن ہے اور مضبوط پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے ٹیکسیشن، توانائی، سرکاری اداروں کی تنظیمِ نو، پبلک فنانس اور حکومتی اداروں کے سائز میں کمی جیسے شعبوں میں حکومت کی جاری اصلاحات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم ذاتی طور پر اصلاحاتی ایجنڈے کی قیادت کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ نج کاری کا عمل مزید تیزی سے آگے بڑھے گا۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ حالیہ دنوں میں تینوں بڑے عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں نے پاکستان کی معیشت پر مثبت رائے دی ہے، جو یورپی یونین سمیت دو طرفہ شراکت داروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

وزیر خزانہ نے حالیہ سیلابی تباہ کاریوں پر بھی روشنی ڈالی، جس کے نتیجے میں فصلوں، شہریوں کی مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، اب تک 950 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وفاقی کابینہ جلد فیصلہ کرے گی کہ بین الاقوامی برادری سے بحالی اور تعمیر نو کے لیے باضابطہ اپیل کی جائے یا نہیں۔

وزیر خزانہ نے یورپی یونین پاکستان بزنس فورم کو فعال بنانے کے منصوبے کا خیرمقدم کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے یورپی کمپنیوں کو پاکستان میں تیل و گیس، معدنیات، آئی ٹی، زراعت اور نجکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی، ساتھ ہی جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین کے مسلسل تعاون پر شکریہ بھی ادا کیا۔

یورپی سفیر نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان ایک اہم ملک ہے، پاکستان کی گزشتہ ڈیڑھ برس میں حاصل کی گئی معاشی استحکام کی کامیابیوں کو سراہا اور کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری پر مبارک باد دی۔

سفیر نے پاکستان کی ترقی و خوش حالی کے لیے یورپی یونین کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ اس وقت 300 سے زائد یورپی کمپنیوں کے پاکستان میں مختلف شعبوں میں کاروبار جاری ہیں اور یورپی یونین باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ یورپی یونین-پاکستان بزنس فورم کو آئندہ سال کے پہلے نصف میں مکمل طور پر بحال اور فعال کر دیا جائے گا، جو اقتصادی تعاون کو مزید تقویت دے گا۔

سفیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس رجیم پاکستان کی برآمدات بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور اس وقت پاکستان کی 30 فیصد سے زائد برآمدات یورپی مارکیٹ کو جاتی ہیں۔

انہوں نے یورپی انویسٹمنٹ بینک کے پاکستان میں جاری منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں پانی و صفائی کے منصوبوں کے علاوہ ریلویز، توانائی اور دیہی ہاؤسنگ کے منصوبوں پر بھی مستقبل میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

سفیر کاروبلس نے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار بھی کیا، دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور یورپی یونین اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دیں گے اور تعاون کے نئے مواقع تلاش کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کی معیشت یورپی یونین سرمایہ کاری پاکستان میں نے کہا کہ انہوں نے نے یورپی کو مزید کے لیے

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ