پنجاب اسمبلی: 26 معطل ارکان کیخلاف نااہلی ریفرنسز پرکارروائی شروع
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
لاہور(اوصاف نیوز) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کےخلاف نااہلی ریفرنسز پرکارروائی شروع کردی گئی ہے۔
ترجمان اسپیکر پنجاب اسمبلی کے مطابق 26 ارکان اسمبلی کی نااہلی سے متعلق اسمبلی حکام کا تیارکیاگیا ریفرنس اسپیکرکوموصول ہوگیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اسپیکر نے 26 معطل ارکان کو مؤقف پیش کرنےکا موقع دینےکا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے ریفرنسزپر سماعت 11جولائی کو صبح 11 بجے اسپیکرچیمبر میں ہوگی جب کہ اسپیکرآئین کے تحت 30 روز میں نااہلی ریفرنسز پر فیصلہ کرنےکے پابند ہیں۔
اس حوالے سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اےکے تحت معطل ارکان اسمبلی کو موقع دیاجارہا ہے، تمام ارکان کو آئینی دائرہ کار میں مکمل دفاع کا موقع فراہم کیا جائےگا۔
خیال رہے کہ 27 جون کو اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد اسپیکر نے اپوزیشن کے 26 ارکان کی رکنیت معطل کرتے ہوئے ان کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنےکا اعلان کیا تھا۔
جمائمہ کا بچوں کی پاکستان آمد سے متعلق وزراء کے بیانات پر شدید ردعمل آگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی معطل ارکان
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔