ریفرنس بھیجنا خطرناک روایت‘تمام جماعتوں کیلیے مشکل بنے گی‘ سعد رفیق
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنے کے فیصلے کی مخالفت کر دی ہے۔اپنے بیان میں سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دو درجن سے زائد اراکین اسمبلی کی جانب سے ہنگامہ آرائی، گالم گلوچ اور نازیبا الفاظ کے استعمال پر ان کی رکنیت معطل کی گئی اور اب انہیں اسمبلی سے فارغ کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھجوایا گیا ہے، جو کہ ایک خطرناک راستے کا آغاز ہو سکتا ہے۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اسمبلی اختلاف یا اتفاق کے لیے بنی ہے، مار دھاڑ یا گالی گلوچ کے لیے نہیں، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کو اسمبلی کے اندر گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آج اس عمل کو جائز قرار دے دیا گیا تو آئندہ ہر اسمبلی میں یہی فارمولا استعمال ہوگا، اور کل کو مسلم لیگ ن سمیت تمام جماعتوں کو اسی بہانے سے نکالا جا سکتا ہے۔سعد رفیق نے کہا کہ جس دن یوسف رضا گیلانی کو عدالتی فیصلے کے ذریعے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا، تب بھی میں نے کہا تھا کہ یہ تکلیف دہ ہے، اور اب یہی پیٹرن دہرا دیا جائے گا۔انہوں نے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کو مدبر قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ وہ تحمل، دانشمندی اور جمہوری رویے کا مظاہرہ کریں، کیونکہ وہ پہلے بھی پی ٹی آئی اراکین کو سہولیات دینے پر تنقید کا سامنا کرتے رہے ہیں، مگر ان کا کردار غیر جانب دار اور جمہوری ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔